ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا استعفے کی وجہ ہو

اگر یہ کہا جائے میر ی معاشی ٹیم میں سارے قابل لوگ تھے تو یہ درست نہیں ۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ اپریل 11:54

ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا استعفے کی وجہ ہو
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 اپریل 2019ء) : وزارت خزانہ سے مستعفی ہونے کے بعد اسد عمر نے اپنے استعفے کی ممکنہ وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا استعفے کی وجہ ہو۔ نجی ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ امریکہ نے آئی ایم ایف سے کہا کہ پیسہ چین کا قرض دینے میں استعمال نہ ہو۔

آئی ایم ایف کے ساتھ نومبر اور آج کے معاہدے میں کافی فرق ہے ۔ آئی ایم ایف سے آج کا معاہدہ عوام اور پاکستان کے لئے بہتر ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے میر ی معاشی ٹیم میں سارے قابل لوگ تھے تو یہ درست نہیں ہے ۔وزارت چھوڑنے سے معیشت بہتر ہوتی ہے تو یہ ایک بہترین فیصلہ ہے ۔ میرے فیصلے سے معیشت کی بہتری ہوتی ہے تو یہ وقت بتا دے گا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ تو نہیں بتا سکتا کہ میرا حکومت میں کتنا فعال کردار ہو گا۔ میں اب بھی پارٹی اور حکومت کے لئے کردار ادا کرنے کو تیار ہوں۔ میں نے وزارت خزانہ چھوڑی ہے ، لیکن میرا سیاست چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ نہ تو میں مایوس ہوں اور نہ ہی غصے میں ہوں۔ عثمان بزدار اور میرا موازنہ نہیں کیا جا سکتا وہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر حفیظ شیخ کے ساتھ بہت کام کیا، وہ بہت نفیس انسان ہیں۔ہم ایمنسٹی سکیم کے ذریعہ لوگوں کو سسٹم میں لانا چاہتے تھے ۔ ہم نے ہر حالت میں غریب ترین پاکستانیوں کو بچانا ہے اور ان کے لئے اگر کوئی ہم سہولت پیدا کر سکیں تو کرنی ہے ۔ ہم نے ایکسپورٹرز کے پیچھے کھڑے ہونا ہے ، جب تک ہمارا ایکسپورٹرکامیاب نہیں ہو گا ہم مشکلات سے نہیں نکل سکتے ۔

ایکسپورٹر کی ناکامی کی پوری قوم قیمت ادا کرتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند سال کے دوران چین کے علاوہ پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو گئی تھی۔ اگر سی پیک کو نکال دیں تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کی ایکسپورٹس بڑھانے میں ہم مدد کے لئے تیار ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے آٹھ ماہ کے مقابلہ میں پی ٹی آئی حکومت کی آٹھ ماہ کی کارکردگی بہتر ہے ۔