پاکستان کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے اور اسی آئین کو لیکر آگے چلنا ہے ،

عمران خان کو پانچ سال پورے کرتے دیکھ رہا ہوں‘ شیخ رشید نواز ،شہباز اور زرداری جو مرضی کر لیں ا ب ان کاکوئی سیاسی مستقبل نہیں ،بلاول اپنے والد کی کرپشن کیساتھ کھڑا ہوگا تو اسکی سیاست ختم ہو جائیگی ایم ایل ون کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا عالمی سازش تھی ، وزیر اعظم کی موجودگی میں ایم ایل ون پر دستخط ہونگے ،وطن واپسی پر قوم کو بڑی خوشخبری دوںگا تین سال سے ایک ہی سیٹ پر تعینات رہنے والوں کوتبدیل کیا جارہا ہے ‘ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس

ہفتہ اپریل 13:42

پاکستان کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے اور اسی آئین کو لیکر آگے چلنا ہے ،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے اور اسی آئین کو لے کر آگے چلنا ہے ،عمران خان کو پانچ سال پورے کرتے دیکھ رہا ہوں، نواز شریف ، آصف زرداری اور شہباز شریف جو مرضی کر لیں ا ب ان کاکوئی سیاسی مستقبل نہیں ، ریلوے کے خلاف عالمی سازش تھی کہ ایم ایل ون کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جائیں اوراس پر دستخط نہ ہوں، وزیر اعظم کی موجودگی میں ایم ایل ون پر دستخط ہو جائیں گے اور وطن واپسی پر قوم کو بڑی خوشخبری دوں گا ،تین سال سے ایک ہی سیٹ پر تعینات رہنے والوں کوتبدیل کیا جارہا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلو ے ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

شیخ رشید نے کہا کہ ملک کیلئے ریلوے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے لیکن ایک منصوبے کے تحت ریلوے کے خلاف سازش کی گئی اور پلوں اور سڑکوں پر خرچ کیا گیا ۔ یہ ایک عالمی سازش تھی کہ ایم ایل ون کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جائیں ۔ وزیر اعظم کے دورہ چین کے موقع پر25سے 28اپریل کے درمیان ایم ایل ون کے معاہدے پر دستخط ہوں گے اورچین سے واپسی پر بڑی خوشخبری سنائوں گا ۔

اس منصوبے کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ۔ ایم ایل ون سے لاہور اور کراچی کے درمیان سفر کم ہو کر آٹھ گھنٹے رہ جائے گا ۔ یہ فیزز میں ہوگا اور میری کوشش ہو گی انہیں جلد سے جلد مکمل کیا جائے ۔ اس منصوبے سے ٹرین کی رفتار جو اس وقت 70سے 90کلو فی گھنٹہ ہے وہ کم سے کم 160کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فرنس آئل کی ترسیل کا کام ملا ہے اور مزید بھی تلاش کر رہے ہیں ۔

وزیر اعظم عمران خان آنے والے دنوں میں سر سید احمد خان کا افتتاح کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگ طعنے دیتے تھے کہ کہاں سے کوچز لائیں گے لیکن ریلوے کے مزدوروں نے محنت کی اور ہم نے ایک روپے کی درآمد نہیں کی اور پرانی ٹرینوں کی تزئین و آرائش کر کے انہیں بحال کیا ہے ۔ میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے سلام کرتا ہوں جنہوں نے ریلوے پر اعتماد کا اظہار کیا اور پاکستان کی تاریخ میں مسافروں کی تعداد میں 20فیصد اضافہ ہوا ہے جو ایک ریکارڈ ہے ۔

ہم نے فریٹ ٹرینوں کی ترقی کا ہدف حاصل کرنا ہے اور اس کے لئے اب میں ایک ہفتہ کراچی میں بیٹھا کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کے بعد ٹو اور تھری کی طرف بھی جائیں گے ۔پسنجر کوچز کے لئے آج سے اربوں روپے کے ٹینڈر جاری کرنے جارہے ہیں ۔ انہوں نے جناح ایکسپریس میں کچھ خامیوں کے حوالے سے کہا کہ ہم مرحلہ وار آگے بڑھ رہے ہیں اور جناح ایکسپریس کو پرفیکٹ کر دیں گے ۔

میں ریلوے کو جو ٹاسک دیتا ہوں اس کا وقت کم ہوتا ہے اور اس کا ذمہ دار ریلوے نہیں میں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مزید 16مسافر ٹرینیں چلانی ہے اور یہ تعداد 40پوری کر کے دکھائوں گا ، اسی طرح 8فریٹ ٹرینوں کو 20 کرنے کے دکھائوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں ریلوے کے مزدووں کے ساتھ کھڑا ہوں ، شہید ہونے والے ڈرائیو کو 23لاکھ روپے کا چیک دیا ہے اور وزیر اعظم سے درخواست کی ہے اس کے اہل خانہ کو پلاٹ بھی دیا جائے جبکہ زخمی ڈرائیور کی بہتری ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے ۔

میری کوشش ہے کہ ریلوے کے ملازمین کو ہیلتھ کارڈ ملے اور ریلوے کے ملازمین ایک گریڈ اپ کیا جائے اور میں اس کے لئے اپنی کوشش جاری رکھوں گا۔انہوںنے رائل پام کے حوالے سے کہا کہ میں نے چوٹی کے چھ وکیلوں کے سامنے کیس لڑا ہے اور اللہ میری شرم رکھے گا ۔ میں نے ریلوے کی وزارت سے کہا ہے کہ اس حوالے سے منصوبہ بندی کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک سرحدوں پر حملوں کی وجہ سے نہیں بلکہ معیشت کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں ، جب روس ٹوٹا تھا توا س کے پیچھے بھی یہی وجہ تھی اس کی علیحدہ ہونے والی سات ریاستوں میں کوئی جلوس نہیں نکلا تھا اور عوام نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ اس کی معیشت تباہ ہو چکی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ عمرا ن خان جب حکومت میں آئے تو خزانہ کی وزارت تو تھی لیکن خزانہ نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ اسد عمر جتنی محنت کر سکتا تھا س نے محنت کی ہے بہر حال یہ کپتان کا فیصلہ ہے ۔ حفیظ شیخ میرے ذاتی دوست اور بھائیوں جیسے ہیں اور وہ بڑے با صلاحیت ہیں ۔میں نے پہلے روز کہا تھا آئی ایم ایف پروگرام کے بغیرملک نہیں چل سکتااور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسد عمر نے خود استعفیٰ دیا لیکن میڈیا میں طوفان کھڑا کر دیا گیا کہ سب کچھ بلڈوز ہو گیا تہس نہس ہو گیا ۔ عمران خان نے صرف ایک وزیر کو نکالا ہے اور ایک نے خود استعفیٰ دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں جی حضوری اور خوشامدی کا قائل نہیں ہوں ، میں نے کئی وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان بہت محنت کر رہے ہیں اور کپتان کا کام ہے کہ وہ جس کھلاڑی کو چاہیے سلپ اور جس کو چاہیے بائونڈری پر کھڑا کرے ۔

انہوں نے غیر منتخب افراد کی کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے کہا کہ بہت سے نئے لوگ پہلی مرتبہ کابینہ کا حصہ بنے ہیں ۔ انہوںنے حکومت کے پانچ سال پورے کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ میں عمران خان کی حکومت کو پانچ سال پورے کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور اگلے انتخابات میں ریلوے کی بہت بڑی سپورٹ عمران خان کے پیچھے ہو گی اور اللہ ریلوے کو نظر سے بچائے ۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جن پر بھی نیب کے کیسز ہیں عمران خان انہیں برداشت نہیں کرے گا ، خسرو بختیار کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے ،میں خسر وبختیار سے کہوں گا کہ وہ خود میڈیا میں جا کر اس کا جواب دیں گے جہاں تک وزیر دفاع کی تبدیلی کی بات ہے تو میں نے ایسی خبرنہیں سنی ۔ انہوں نے 30مارچ تک جھاڑوں پھرنے کے حوالے سے سوال کے جوا ب میں کہا کہ میں نے اس مدت کو بڑھا کر 30جون کر دیا تھا اور کیا جھاڑو نہیں پھرا ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ، آصف زرداری اور شہباز شریف جو رضی کر لیں اب ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ۔ ایک ہفتے کوئی وکٹ کی ایک طرف کھیل رہا ہے اور دوسرا ددسری طرف ،میں نے شہباز شریف کے حوالے سے جو بات تھی کی اس پر قائم ہوں اور میں شہباز شریف کے چیلنج کا انتظار کرتا رہا ۔ میں ان خاندانوں کا سیاست میں کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہا ۔ انہوں نے بلاول کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ جس طرح کھیل رہا ہے اور اگر باپ کی کرپشن کے ساتھ کھڑا ہوگا تو اس کی سیاست ختم ہو جائے گی ۔

انہوں نے صدارتی نظام کی افواہوں کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام ہے ، پاکستان کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے اور اسی آئین کو لے کر آگے چلنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ مہنگائی بڑھی ہے لیکن اس کے ذمہ دار سابقہ چور ، ڈاکو اور لٹیرے حکمران ہیں جنہوںنے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ایک ایسے وزیر کو کابینہ سے نکالا ہے جس کے بارے میں تصور نہیں کر سکتا تھا ۔

انہوں نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے کہا کہ ابھی اس کے بارے میں علم نہیں لیکن ہمارے اجلاس میں ریلوے کے بجٹ کے حوالے سے بات ہوئی ہے اور ہم 24تاریخ تک اسے حتمی شکل دیدیں گے ۔ ہم نے اپنے ہدف سے 4ارب روپے زیادہ کمایا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ریلوے ملک کی 70فیصد آبادی کے درمیان میں سے گزرتی ہے اس لئے عالمی سازش کی گئی کہ ریلوے ترقی نہ کرے اور ایم ایل ون پر دستخط نہ ہوں ،میں چین سے واپسی پر ٹرین کے حوالے سے بڑی خوشخبری دوں گا ۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کے سابق وزیر نے صرف خریداری پر توجہ رکھی اور ایک ،ایک ارب روپے کی مشینری خریدی گئی ہے ۔ ہم نے نے خیرات مانگ کر ٹریکر لگائے ہیں لیکن اب ریلوے کی معاشی حالت بہتر ہو گئی ہے ہم نے فریٹ اور پسنجر تمام ٹرینوں میں یہ ٹیکنالوجی لگانی ہے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جو بھی ٹریکر کو ناکام بنانے کی کوشش کرے گا اسے وہاں بھیجوں گا جہاں اس کی لاہور کے اخبارا ت میں خبر بھی نہ لگ سکے ۔ انہوں نے یوٹیلٹی سٹورز کے حوالے سے کہا کہ اس کے لئے پانچ رکنی کمیٹی بنائی ہے ، اسے چلاناکارپوریشن کا کام ہے ہم نے صرف نگرانی کرنی ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ عوام کو ریلیف دیں ۔