بزی ٹاپ سانحے میں بلوچ دہشتگرد تنظیم ملوث ہے ٹریننگ کیمپ ایران میں ہیں، پاکستان کا سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ

شہید اء میں 10 جوانوں کا تعلق پاک نیوی،3 کا فضائیہ اور ایک کا کوسٹل گارڈ سے تھا،واقعہ کے سپیشل فورنزک شواہد موجود ہیں،ایران کو پاکستان کی توقعات سے آگاہ کردیا ہے، امید ہے ایران دہشت گردوں کے خلا ف ایکشن لے گا، شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس

ہفتہ اپریل 14:51

بزی ٹاپ سانحے میں بلوچ دہشتگرد تنظیم ملوث ہے ٹریننگ کیمپ ایران میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بزی ٹاپ سانحے میں بلوچ دہشتگرد تنظیم ملوث ہے جس کے ٹریننگ اور لاجسٹکس کیمپ ایران میں واقع ہیں،شہید اء میں 10 جوانوں کا تعلق پاک نیوی،3 کا فضائیہ اور ایک کا کوسٹل گارڈ سے تھا،واقعہ کے سپیشل فورنزک شواہد موجود ہیں،ایران کو پاکستان کی توقعات سے آگاہ کردیا ہے، امید ہے ایران دہشت گردوں کے خلا ف ایکشن لے گا، پاکستان نے نئی سدرن کمان تشکیل دی ہے، نئی کمان بارڈر کو مزید مضبوط بنائیگی ، ایران اور پاکستان مل کر بارڈر کو پرامن رکھنے اور دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کیلئے جوائنٹ بارڈر سنٹر بنائیں گے، نو سو پچاس کلومیٹر پاکستان ایران بارڈر سرحدی دیوار بنائی جائیگی،بھارت سے مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے چاہے حکومت جو بھی آئے۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو وزیر خارجہ شاہ محمود نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ دورہ ایران سے قبل 20 کے قریب دہشت گردوں نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا ،حملے میں پاکستان نیوی کے 10 ،پاک فضائیہ کے 3 اور کوسٹ گارڈ کا ایک ملازم شہید کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پوری قوم جاننا چاہتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا ۔ انہوںنے کہاکہ سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کا ایک اتحاد سامنے آچکا ہے۔

انہوںنے کہاکہ بلوچ تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے الزام تراشی کیلئے بھارت کی طرح جلد بازی نہیں کی،ہم نے مصدقہ اطلاعات کا انتظار کیا۔انہوںنے کہاکہ بلوچ گروہ کو ایران کی سرزمین سے مدد فراہم کی گئی ہے ،ایران کو قابل ایکشن شواہد اور ٹھکانوں کی اطلاعات فراہم کردئیے گئے ہیں،ہم امید کرتے ہیں کہ ایران ان تنظیموں کے خلاف بھرپور کاروائی کریگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم افغانستان سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گا۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح قیام امن کیلئے افغانستان کی مدد کرتے ہیں ویسی مدد کی توقع بھی رکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے میری تفصیلی بات ہوئی ہے،ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستانی عوام کے جذبات سے آگاہ کیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ نے بھرپور کاروائی کی یقین دہانی کروائی ہے،ایرانی وزیر خارجہ نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔انہوںنے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل حوصلہ افزا ہے۔شاہ محمود قریشی نے بتایاکہ وزیر اعظم (آج) اتوار سے ایران کا دورہ کررہے ہیں،وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر یہ معاملہ تفصیلی طور پر زیر بحث آئیگا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے ایک نئی سدرن کمان بارڈر کی نگرانی کیلئے تشکیل دی ہے،نئی کمان کا مقصد بارڈر کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان ایک نئی فرنٹیئر کور بھی تشکیل دے رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور پاکستان مل کر بارڈر کو پرامن رکھنے اور دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کیلئے جوائنٹ بارڈر سنٹر بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ نو سو پچاس کلومیٹر پاکستان ایران بارڈر سرحدی دیوار بنائی جائیگی۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے ایران کی جانب سے ہمیشہ کارروائی کی درخواست پر بھرپور کارروائی کی ہے۔

انہوںنے کہاکہ ایرانی سرحدی محافظوں کے معاملے پر ہماری کارروائی سامنے ہے۔انہوںنے کہاکہ 12 میں سے 9 ایرانی سرحدی محافظوں کو پاکستانی فورسز نے بازیاب کروایا تھا۔انہوںنے کہاکہ کچھ عناصر ایسے موجود ہیں جو ایران اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ اسپائلرز ہوتے ہیں جو حالات بہتر ہو رہے ہیں انہیں خراب کرنا چاہتے ہیں ،ایسے عناصر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ جب بھی پاکستان کے عہدیدران ایران جانے لگتے ہیں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں،ایسا کیوں ہوتا ہے جواب ایک ہی لائن میں دونگا جانم سمجھا کرو۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ بھارت سے مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے چاہے حکومت جو بھی آئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال کو سامنے رکھ کر بھارت آگے بڑھے۔ انہوںنے کہاکہ آج پاکستان میں ایسی حکومت موجود یے جو مسائل کا حل اور عوامی فلاح کے لیئے پر عزم ہے۔

پاکستان کے تینوں پڑوسی ممالک سے تعلقات کے سوال پر انہوںنے کہاکہ ہمارا افغانستان سے مستقبل جڑا ہوا ہے، ایران سے بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات بہتر ہوں، تاہم کچھ پابندیاں آڑے آجاتی ہیں،اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود ہمسائے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور ہم اس کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاک ایران سرحد پر باڑ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا بدل گئی ہے، پہلے ایسی دہشتگردی نہیں تھی، اس کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھانے پڑے اور باڑ لگانا بھی اسی کا ایک قدم ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاک ایران تعلقات سے غافل نہیں ہوں، اس واقعے پر غم و غصہ ہے لیکن ہم بھائی اور دوست ہیں اور اسے کے حوالے سے توقعات رکھی ہیں۔