آمدن سے زائد اثاثہ جات ،آف شور کمپنیوں کیس میں عبدالعلیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30اپریل تک توسیع

کسی کو بھی بلاوجہ جیل میں نہیں رکھا جا سکتا ‘ احتساب عدالت کا نیب پراسیکیوٹر کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم علیم خان کو سخت سکیورٹی میں سیشن عدالت میں بھی پیش کیا گیا ، الیکشن کمیشن کے استغاثہ کیس پر مزید کارروائی 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی

ہفتہ اپریل 14:58

آمدن سے زائد اثاثہ جات ،آف شور کمپنیوں کیس میں عبدالعلیم خان کے جوڈیشل ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور آف شور کمپنیوں کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و سابق سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30اپریل تک توسیع کرتے ہوئے نیب کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ، سیشن عدالت میں عبدالعلیم خان کیخلاف الیکشن کمیشن کے استغاثہ کیس پر مزید کارروائی 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

تحریک انصاف کے سینئر رہنما عبدالعلیم خان کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں احتساب عدالت کے منتظم جج سید نجم الحسن بخاری نے کیس پر سماعت کی۔ عدالتی استفسار پر نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے عبدالعلیم خان کیخلاف تفصیلی رپورٹ بارے بتایا کہ ملزم کیخلاف تحقیقات تقریباً مکمل ہیں اور حتمی رپورٹ تیاری کے مراحل میں ہے جسے متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اس پر عبدالعلیم خان کے وکیل نے کہا کہ پہلی دفعہ جوڈیشل ریمانڈ کے موقع پر بھی نیب کا یہی موقف تھا آج بھی یہی موقف ہے، جس پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ کسی کو بھی بلاوجہ جیل میں نہیں رکھنا چاہیے۔عدالتی ریمارکس پر نیب کے وکیل وارث علی جنجوعہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد حتمی رپورٹ اور ریفرنس دائر ہوگا۔بعد ازاں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے ملزم علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30 اپریل تک توسیع کردی اور آئندہ سماعت پر نیب کو حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

عبدالعلیم خان کی احتساب میں پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو احتساب عدالت میں داخلے سے روکنے کے لئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ،اینٹی رائٹ فورس اور پولیس کی بھاری نفری جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تعینات رہی جبکہ ایم او کالج سے سیکرٹریٹ چوک جانے والی ایک سڑک کو کنٹینر اور خار دار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد عبدالعلیم خان کو سیشن عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور خالد نواز نے عبدالعلیم خان کیخلاف الیکشن کمیشن کے استغاثہ پر سماعت کی۔

علیم خان کے خلاف سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے استغاثہ دائر کر رکھا ہے ۔علیم خان نے سردار ایاز صادق کی کامیابی کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا ۔ایاز صادق کا موقف ہے کہ علیم خان نے درخواست میں الیکشن کمیشن میں جعلی حلف نامہ جمع کروایا جبکہ وکیل علیم خان نے کہا کہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، سردار ایاز صادق نے غلط درخواست دی، اسے خارج کیا جانا چاہیے، ماتحت عدالت میں سردار ایاز صادق کی بجائے الیکشن کمیشن نے کیس کیا، الیکشن کمیشن کا اختیار ہی نہیں کہ ایسا کیس دائر کر سکے، اپنی نوعیت کا انوکھا کیس ہے جس میں الیکشن کمیشن نے امیدوار کے خلاف دعوای دائر کیا ۔سیشن عدالت نے علیم خان استغاثہ کیس کی سماعت 13مئی تک ملتوی کر دی۔