نئے بلدیاتی نظام میں شہری علاقوں میںنیبر ہوڈ کونسل میں ممبران کی تعداد 5سے 8،ویلج کونسل کی تعداد 3سے 5ہوگی

واسا، ایل ڈی اے، ایل ڈبلیو ایم سی، لاہور پارکنگ، ایجوکیشن بورڈ، ٹیپا اور میونسپل سروسز کے اداروں کا سربراہ لارڈ میئر ہوگا نئی حلقہ بندی آبادی کے مطابق ایک نیبر ہوڈ کونسل کی آبادی 20سے 25ہزار ہوگی، الیکشن حلقہ بندیوں کے بعد ہوں گے

ہفتہ اپریل 19:00

نئے بلدیاتی نظام میں شہری علاقوں میںنیبر ہوڈ کونسل میں ممبران کی تعداد ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) نئے بلدیاتی نظام میں شہری علاقوں میںنیبر ہوڈ کونسل ایک آزاد و خود مختار ادارہ ہوگا جس میں ممبران کی تعداد 5سے 8ہوگی، دیہی علاقوں کے لئے ویلج کونسل کے ممبران کی تعداد 3سے 5ہوگی، میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں میئر اور ایک کنوینرہوگا، واسا، ایل ڈی اے، ایل ڈبلیو ایم سی، لاہور پارکنگ، ایجوکیشن بورڈ، ٹیپا اور میونسپل سروسز کے اداروں کا سربراہ لارڈ میئر ہوگا جبکہ پرائمری اورسیکنڈری کا شعبہ بھی لارڈ میئر کے پاس ہوگا۔

نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب کابینہ سے منظور ہونے والے نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کے مطابق بلدیاتی اداروں کی مدت 5سال ہوگی، انتخابات کے اخراجات پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔بلدیاتی مسودے کے سیکشن 2کے مطابق موجودہ بلدیاتی حکومتیں نئے بلدیاتی ایکٹ کے اسمبلی میں منظور ہونے کے بعد ازخود تحلیل ہو جائیں گی، ایک سال کے اندر حلقہ بندیاں کروا کر انتخابات کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے ،نئے قانون کے مطابق 6ماہ میں رورل اور اربن ایریاز کی تقسیم کرنا ضروری ہو گا۔

(جاری ہے)

مسودہ قانون سیکشن 109 کے مطابق 25سالہ شہری کونسلر کے الیکشن کا اہل ہوگا۔نیبر ہوڈ کونسل ایک آزاد و خود مختار ادارہ ہوگا جس میں ممبرز کی تعداد 5سے 8ہوگی جبکہ ویلج کونسل کے ممبران کی تعداد 3 سے 5ہوگی، میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں میئر اور ایک کنوینر ہوگا۔ واسا، ایل ڈی اے، ایل ڈبلیو ایم سی، لاہور پارکنگ، ایجوکیشن بورڈ، ٹیپا اور میونسپل سروسز کے اداروں کا سربراہ لارڈ میئر ہوگا جبکہ پرائمری اورسیکنڈری کا شعبہ بھی لارڈ میئر کے پاس ہوگا، ڈسٹرکٹ اسمبلی میں 56ممبرز ہوں گے ۔

چیف افسر ضلع کا طاقتور ترین سرکاری نمائندہ ہو گا۔ نئی حلقہ بندی آبادی کے مطابق ایک نیبر ہوڈ کونسل کی آبادی 20سے 25ہزار ہوگی، الیکشن حلقہ بندیوں کے بعد ہوں گے، میئر کا انتخاب براہ راست ہوگا او ر اس کا جماعتی بنیادوں پر انتخاب ہوگا۔مسودہ قانون سیکشن 91کے مطابق حکومت الیکشن کمیشن کی باہمی مشاورت کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے گی، 3ماہ قبل الیکشن کی تاریخ کا نوٹیفکیشن آفیشل گزٹ میں ہو گا، نامزد اہل امیدوار ہی الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔