افغان طالبان نے امن عمل سے متعلق افغان عوام سے تجاویز مانگ لیں

طالبان نے پہلے بھی افغانوں سے مشورے لئے ہیں ، مستقبل میں بھی پالیسی جار ی رکھیں گے ، شیر محمد عباس ستانکزئی تعلیم مردوخواتین کامساوی حق ہے اورطالبان اور تعلیم و تربیت کے مخالف نہیں ، عبد السلام حنفی کا افغان شخصیات کے اعزاز میں استقبالیہ سے خطاب

ہفتہ اپریل 19:15

افغان طالبان نے امن عمل سے متعلق افغان عوام سے تجاویز مانگ لیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) افغان طالبان نے امن عمل سے متعلق افغان عوام سے تجاویز مانگ لیں ۔قطر میں طالبان کے سیاسی نمائندوں اور قطر پہنچنے والے کئی افغان شخصیات کے درمیان ہفتہ کو دوحہ میں غیر رسمی مذاکرات ہوئے ۔قطر سے طالبان ذرائع نے بتایا کہ یہ مذاکرات نہیں بلکہ غیررسمی نشست تھی ۔ طالبان نے دوحہ پہنچنے والے ان شخصیات کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جو بین الافغانی مذاکرات کے ملتوی ہونے کے باوجود دو پہنچے تھے ۔

استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے طالبان کے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے افغانستان کے لوگوں سے کہاکہ امن عمل اور دیگر امور سے متعلق انہیں مشورے دیں اور اپنی تشویش اور مطالبات طالبان کے ساتھ شریک کریں ۔

(جاری ہے)

انہوںنے شرکاء کو امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات سے متعلق معلومات بھی شریک کیں اور کہاکہ طالبان نے پہلے بھی افغانوں سے مشورے لئے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ پالیسی جار ی رکھیں گے ۔

انہوںنے کہاکہ کوئی بھی افغان باشندہ طالبان سے رابطہ اور اپنے مشورے شریک کر سکتا ہے ۔مذاکراتی ٹیم کے ایک سینئر رہنما اور سیاسی دفتر کے نائب عبد السلام حنفی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم مردوخواتین کامساوی حق ہے اورطالبان اور تعلیم و تربیت کے مخالف نہیں اور اس سلسلے میں بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا گیا ۔انہوںنے کہاکہ امن کیلئے کوششیں تمام افغانوں کی ذمہ داری ہے ۔

انہوںنے امریکیوں سے افغانستان سے نکلنے کا مطالبہ دوہرایا۔اجلاس میں امریکہ ، لندن اور ناروے سے آئے ہوئی تین خواتین خاٹول مہمند، سارا الکوزئی اور مسعودہ سلطان نے شرکت کی اور خطاب کیا۔طالبان رہبری شوریٰ کے دفتر کے سیکرٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سینئر رہنما امیر خان متقی نے کہاکہ کابل انتظامیہ نے غیر ضروری طورپر بین الافغانی مذاکرات کیلئے 250افراد کی فہرست جاری کر دی ۔

جب افغان حکومت سے کہاگیاکہ فہرست میں کمی کی جائے تووہ اصرار کرتے رہے کہ جس کو نکالاجائیگا وہ ناراض ہو جائیگا ۔انہوںنے کہاکہ طالبان امن عمل میں مخلص ہیں اور اسی لئے سیاسی دفتر قائم کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ طالبان نے ماسکو میں افغان باشندوں سے مذاکرات کئے اور قطر میں دوسری نشست پر اتفاق کیا تھا لیکن کابل انتظامیہ نے اس میں رکاوٹ ڈال دی ۔

یاد رہے کہ قطر میں 20اور 21اپریل کو ہونے والے بین الافغانی مذاکرات افغان حکومت کی جانب سے 250افراد کی فہرست پر اعتراضات کی وجہ سے ملتوی ہوگئے تھے ۔بین الافغانی مذاکرات کے منتظم اعلیٰ برکات سلطان نے تسلیم کیا کہ فہرست پر اعتراضا ت کی وجہ سے مذاکرات ملتوی ہوگئے تھے تاہم انہوںنے کہاکہ اعتراضات دور کر نے کیلئے کوششیں جار ی ہیں ۔ افغان حکومت نے اپنی فہرست کے بعد قطر کی جانب سے شرکاء کی فہرست پراعتراض کیا اور انہیں افغانستان کی توہین قرار دیا تھا ۔

ملتوی ہونے والے بین افغانی مذاکرات کا سلسلہ فروری میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والی نشست سے ہوا تھا ۔قطر میں ملتوی ہونے والے مذاکرات اس لئے اہم تھے کہ طالبان نے اپنے موقف میں لچک کامظاہرہ کر تے ہوئے افغان حکومتی نمائندوں سے ذاتی حیثیت میں مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم افغان حکومت نے لمبی فہرست جاری کر کے مذاکرات کو التواء میں ڈال دیا ۔

ذرائع کے مطابق قطر کی وزارت خارجہ میں انسداد دہشتگردی کے شعبے میں کام کر نے والی ایک اہم شخصیت متلق قہطا نی نے طالبان کو افغان نمائندوں کی مذاکرات میں شمولیت پر راضی کرلیا تھا ۔قہطانی نے اس ماہ کے اوائل میں دورہ کابل کے دور ان صدر اشرف غنی کو طالبان کے موقف سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد افغان حکومت نے بھی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم افغان حکومت پر سیاسی شخصیات کی دبائو کی وجہ سے کابل نے 250افراد پر مشتمل لمبی فہرست جاری کر دی جس پر نہ صرف طالبان بلکہ قطر کے منتظمین نے بھی تحفظات کااظہار کیا جب قطر نے اپنی فہرست جاری کر دی تو افغان حکومت نے شرکاء کو قطر جانے سے روک دیا ۔