معاشی بحران بڑا ہے، لوگوں کو اعتراض تھا کہ اسد عمر بڑے ماہرِ معاشیات نہیں ہیں، وزیراعظم

اسد عمر اچھے آدمی ہیں ،خواہش کے کہ وہ دوبارہ کابینہ میں آجائیں،عمران خان

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ اپریل 19:30

معاشی بحران بڑا ہے، لوگوں کو اعتراض تھا کہ اسد عمر بڑے ماہرِ معاشیات ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20اپریل2019ء) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدرات ہونے والے کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک اراکین حالیہ تبدیلیوں سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ اسد عمر کو وزارتِ خزانہ سے کیوں ہٹایا گیا ہے جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ملک میں موجود معاشی بحران بہت بڑا ہے جبکہ لوگوں کا خیال ہے کہ اسد عمر بڑے ماہرِ معاشیات نہیں ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ اسد عمر بہت اچھے آدمی ہیں لیکن وہ بڑے ماہرِ معاشیات نہیں ہیں جبکہ حفیظ شیخ عالمی معاشی معاملات اور ملکی معاشی امور کا ادراک رکھتے ہیں، اسحاق ڈار نے اس ملک کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دیا لیکن انہیں ہٹایا نہیں گیا اس لیے بحران حل نہیں ہو سکے۔

(جاری ہے)

عمران خان نے وزارتِ خزانہ کی نئی ٹیم کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزراء اور مشیر پرموشن کے لیے نہیں عوام کی خدمت کے لیے کام کریں اور کارکردگی بہتر بنائی جائے، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کہ جو وزیر یا مشیر صحیح کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا اور اس کی کابینہ میں کوئی جگہ نہیں ہو گی تاہم انہوں نے اسد عمر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اسد عمر کابینہ میں واپس آ جائیں۔

اس حوالے سے مشیرعطلاعات فردوس عاشق اعوان کہہ چکی ہیں کہ اسد عمر پارٹی کا حصہ ہیں اور خاندان کے لوگوں کو منانا نہیں پڑتا جبکہ وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواد اسد عر کو واپس لانے کراچی جائیں گے اور دورہ چین سے پہلے اسد عمر کو واپس لے آئیں گے۔ وزیراعظم نے عامر کیانی کو ہٹانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ بہتر انداز میں کام نہیں کر سکے اس لیے انہیں ہٹا دیا گیا۔