سابق خاتون جج نے بھارتی چیف جسٹس پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کر دیا

آنے والوں دنوں میں مزید حساس مقدمات کی سماعت شیڈول ہے اور وہ ’بغیر کسی ڈر‘ کے اپنا کام جاری رکھیں گے، چیف جسٹس

ہفتہ اپریل 20:45

سابق خاتون جج نے بھارتی چیف جسٹس پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کر ..
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) بھارتی سپریم کورٹ کی سابق خاتون رکن نے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق خاتون کی جانب سے سپریم کورٹ کے 22 ججز کو لکھے گئے حلف نامے میں الزام لگایا گیا کہ چیف جسٹس نے گزشتہ برس اکتوبر میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کے دفتر میں انہیں 2 مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا۔

حلف نامے میں خاتون نے لکھا کہ انہوں نے مجھے گلے لگایا اور میرے جسم کو چھوا اور مجھے جانے سے روکا۔دستاویز میں لکھا گیا کہ انہوں نے کہا کہ مجھے پکڑو اور اس سب کے باوجود کے میں ان سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی انہوں نے مجھے جانے نہیں دیا۔خاتون نے دعویٰ کیا کہ رنجن گوگوئی کی خواہش سے انکار پر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا اور ان کے اہل خانہ کو بھی ہراساں کیا گیا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس پر الزام لگانے والی خاتون نے کہا کہ انہیں چیف جسٹس کی اہلیہ نے بلایا اور کہا کہ معافی مانگنے کے لیے اپنی ناک کو ان کے پیروں پر رگڑے۔دوسری جانب 64 سالہ بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی 35 سالہ سابق اسسٹنٹ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو ناقابل یقین کہتے ہوئے اسے اہم مقدمات کی سماعت سے روکنے کی کوشش قرار دیا۔سپریم کورٹ کے ججز کو بھیجے گئے حلف نامے کے بعد عدالت کے ایک خصوصی سیشن میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہیں اور یہ قربانی کا بکرا نہیں بن سکتی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اس غیر معمولی بیٹھک کو اس لیے بلانا پڑا کیونکہ چیزیں بہت دور ہوچکی ہیں۔انہوںنے کہاکہ مجھے یقین نہیں آرہا اور مجھے نہیں لگتا کہ الزامات کو مسترد کرنے کے باوجود مجھے جٴْھکنا چاہیے جبکہ اس معاملے کے پیچھے کوئی بڑی قوت ہے۔بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ آنے والوں دنوں میں مزید حساس مقدمات کی سماعت شیڈول ہے اور وہ ’بغیر کسی ڈر‘ کے اپنا کام جاری رکھیں گے۔رنجن گوگوئی نے کہا کہ خاتون کا مجرمانہ پس منظر ہے اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ الزمات پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے۔