اپوزیشن کی گیم آن،پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت خطرے میں

نمبرز گیم نے وزیراعظم عمران خان کو جھکنے پر مجبور کر دیا

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار اپریل 06:35

اپوزیشن کی گیم آن،پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت خطرے میں
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 اپریل 2019ء) وزارتوں کی تبدیلی جب سے ہوئی ہے تو پی ٹی آئی حکومت کے اتحادیوں اور ارکان میں شگاف پڑنا شروع ہو گیا ہے۔جن جن سے وزارت واپس لی گئی وہ اپنی جگہ پر نالاں اور جن کو ایڈجسٹ نہیں کیا گیا ان کا گلہ بھی بجا اور ساتھ میں کچھ لوگوں کوملنے والی نئی وزارت بھی پسند نہیں آئی اور وہ دھمکی دینے پر اتر آیا۔

جیسے غام سرور خان کو وزارت پٹرولیم پسند نہیں آئی تو انہوں نے خان صاحب کو پیغام بھجوایا کہ میری مرضی کی وزارت نہیں ملتی تو میرے پاس چار پانچ ووٹ ہیں۔۔۔مطلب یہ کہ وہ اپنا گروپ علیحدہ کرلیں گے۔عوام کا حال کسی نے کیا پوچھنا جبکہ پی ٹی آئی حکومت بچانے اور اپنے ممبران کو وزارتوں کی بندر بانٹ میں الجھی پڑی ہے۔ان باتوں کا انکشاف سینئر صحافی حامد میر اور کاشف عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں کیا ۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی میں ایسی کیا خوبی ہے کہ انہیں بھی وزارت دی گئی ہے اور پھر خالد مقبول صدیقی کو ٹیکنالوجی کا وزیر بنایا گیا ہے جبکہ انہیں وٹس ایپ استعمال کرنابھی نہیں آتا۔یہاں تک کہ فوادچودھری کو سائنس اینڈٹیکنالوجی کا وزیر لگا دیا گیا،مطلب وہ اب سپیس پروگرام چلائیں گے۔جب کہ حامد میر نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ حالیہ تبدیلی کی لہر میں پی ٹی آئی کے اندر آٹھ دس گروپ بن گئے ہیں اور کسی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

جبکہ حکومت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن نے بھی پر پرزے نکالنے شروع کر دیے ہیں اور حمزہ شہباز نے رات کے اندھیرے میں لوگوں سے ملنا شروع کر دیا ہے اور وہ سب کو یہی پیشکش دے رہے ہیں کہ کوئی بھی وزارت لے لو مگر عثمان بزدار صاحب کو راستے سے ہٹاﺅ۔یعنی نمبر گیم شروع ہو چکی اور جس دن یہ معرکہ ن لیگ نے مار لیا اس دن پی ٹی آئی کی پنجاب سے چھٹی۔وزارتوں کی تقسیم کے حوالے سے کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ ایسی کیا مجبوری ہے کہ عمران خان صاحب ایسے ایسے لوگوں کو وزارتیں دینے پر مجبور ہو گئے ہیں جو ان قلمدان کے اہل ہی نہیں ہیں۔اب دیکھتے ہیں اس ساری صورت حال میں عمران خان صاحب کیا کرتے ہیں۔

اپوزیشن کی گیم آن،پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت خطرے میں