افغان دارلحکومت کابل کی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن کے کمپاؤنڈ پر حملہ، سات افراد ہلاک

تین خودکش بمباروں کا حملہ،تمام ملازمین محفوظ ہیں،عمارت کو کلیئر کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے،وزارت داخلہ

اتوار اپریل 14:10

افغان دارلحکومت کابل کی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن کے کمپاؤنڈ پر حملہ، ..
کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اپریل2019ء) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ٹیلی کمیونکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے دفتر پر حملے میں 7 افراد ہلاک ہوگئے۔ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے حوالے سے بتایاگیا کہ طالبان نے مذکورہ حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کمپاونڈ میں ہونے والے دھماکے کی نوعیت بتانا قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ 3 خود کش بمبار وزارت کے دفتر میں داخل ہوئے، جس کے بعد پولیس نے حملہ آوروں کو کمپاونڈ میں گھیرے میں لے کر کارروائی کا آغاز کردیا۔رپورٹ میں عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کی عمارت میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ حملہ 4 دہشت گردوں نے کیا جس میں سے 2 کو ہلاک کردیا گیا جبکہ دیگر کے خلاف کارروائی کا عمل جاری ہے۔دوسری جانب افغان میڈیا کے مطابق حملہ 18 منزلہ عمارت پر کیا گیا، جس میں مرکزی پوسٹ آفس، وزارت انفارمیشن اینڈ کلچر اور سینٹرل اسٹیٹس اسٹک اورگنائزیشن کے دفاتر موجود ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا مختلف دفاتر کے باعث یہاں ہر وقت عوام کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں کابل کے پولیس چیف سید محمد روشان دل کا کہنا تھا کہ حملے کا نشانہ بننے والی وزارت کی عمارت میں کم سے کم 2 ہزار ملازمین موجود ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اہلکار عمارت کو کلیئر کرنے کے لیے اس میں داخل ہوچکے ہیں۔بعد ازاں وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک جاری بیان میں بتایا کہ عمارت کو کلیئر کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے تاہم وزارت کے ملازمین محفوظ ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں افغانستان میں شدت پسندوں نے کار بم دھماکا کرنے کے بعد دارالحکومت کابل میں حکومتی دفتر پر حملہ کیا تھا، جس میں 43 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔