ریاست مدینہ کیلئے ٹاسک فورس قائم کی جائے، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین کی حکومت کو تجویز

کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے ، علماء ، منبر و محراب اور دینی طبقات معاشرتی مسائل کو اپنے ایجنڈا کا حصہ بنا لیںتو صورتحال میں لائی جاسکتی ہے ، انسانی اعضاء کی پیوند کاری کی وصیت کا شناختی کارڈ پر اندراج فنی مسئلہ ہے، ہماری سوسائٹی میں انسانی زندگی کا احترام نہیں رہااس پر تمام طبقات کو محنت کر نے کی ضرورت ہے ، خصوصی گفتگو

اتوار اپریل 18:00

ریاست مدینہ کیلئے ٹاسک فورس قائم کی جائے، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اپریل2019ء) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ریاست مدینہ کیلئے ٹاسک فورس قائم کی جائے ،کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے ، علماء ، منبر و محراب اور دینی طبقات معاشرتی مسائل کو اپنے ایجنڈا کا حصہ بنا لیںتو صورتحال میں لائی جاسکتی ہے ، انسانی اعضاء کی پیوند کاری کی وصیت کا شناختی کارڈ پر اندراج فنی مسئلہ ہے، ہماری سوسائٹی میں انسانی زندگی کا احترام نہیں رہااس پر تمام طبقات کو محنت کر نے کی ضرورت ہے ۔

’’ این این آئی ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پذیرائی ملتی ہے اور بہت سے قوانین ایسے ہیں جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کو قبول کرلیا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ ہماری سوسائٹی میں انسانی زندگی کا احترام نہیں رہااس پر تمام طبقات کو محنت کر نے کی ضرورت ہے ۔

نجی سود کی ابتدائی کے پی کے اسمبلی میں ہوئی تھی پھر قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی حصہ ہوئی ، سراج الحق کی طرف سے بل پیش ہواتھا نظریاتی کونسل نے نقطہ نظر بھی دیا اور بل کی بہتری میں اپنا کر دارادا کیا اور بل پاس ہوگیا ۔اعضاء کی پیوند کاری کا سوال ہمارے پاس آیا ہے ، چار اپریل کو اجلاس میں بڑی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے،ہماری سفارش پہلے ہی موجود ہے کہ انسان اعضاء کی وصیت کرسکتا ہے ، باقی شناختی میں اس کا اندراج کر نا یا کوئی اور طریقہ کرنا یہ فنی معاملہ ہے وہ ہی اس کا حل نکال سکتے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ عورت مارچ پر صرف تشویش کا اظہار نہیں کیا ،ماں باپ اور اولاد کے درمیان تعلقات کمزور ہو تے جارہے ہیں ، کچھ حالات ایسے ہیں کہ بدقسمتی سے معاشرہ زوال کی طرف جارہا ہے ، معاشرے کی بہتری کیلئے جو تنظیمیں ہونی چاہئیں وہ زیادہ فعال نہیں ہیں ،ان تنظیموں کو فعال بنانا چاہیے اور مطالعہ کر ناچاہیے کہ ایسا کیوں ہورہاہے ۔انہوںنے کہاکہ ہمارا آئینی نظام مربوط نہیں رہا ہم نے طے کیا کہ ماہرین معاشرت ، ماہرین مذہب، ماہرین نفسیات کے ساتھ انشاء اللہ عنقریب ایک سیشن کر ینگے تاکہ صورتحال کو بہتر ی کی طرف لایا جاسکے ۔

انہوںنے کہاکہ صدر مملکت نے ملاقات میں یہ بات کہی کہ ہم مساجد ،منبر و محراب کو تقویت دینا چاہتے ہیں اور وہ تقویت تب ملے گی جب علماء ، منبر و محراب اور دینی طبقات معاشرتی مسائل کو بھی اپنے ایجنڈا کا حصہ بنا لیں ۔انہوںنے کہاکہ پانی کا بحران آنے والا ہے اور اگر دینی طبقہ اس کو موضوع بنا لیں کہ کس طرح پانی کا استعمال کریں ، کس طرح پانی کے ضیاع روکیں یہ ملک کی بہتری کیلئے بہت بڑا اقدام ہوگا ۔

انہوںنے کہاکہ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے ہم سے ملاقات کی جس میں کہاکہ ہم ریاست مدینہ کا ایک تصور رکھتے ہیں آپ ہماری رہنمائی کریں ۔انہوںنے کہاکہ نظریاتی کونسل نے ایک ورکنگ گروپ بنایا ہے جو کام کررہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم آپ کو عمومی تجاویز دے سکتے ہیں لیکن جزوی تفصیلات کیلئے ہماری سفارش یہ ہوگی کہ حکومتی سطح پر ٹاسک فورس قائم کی جائے ۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے یہ طے کرنے کی کوشش کی ہے کہ ریاست مدینہ میں تعلیمی نظام کیسا ہو معاشی نظام کیسا ہو عدالتی نظام کیسا ہو پولیس کانظام کیسا ہو امید ہے ہمارا ورکنگ گروپ عنقریب عمومی تجاویز دیگا۔ انہوںنے کوئٹہ میں دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ تمام مکتبہ فکر کے علماء نے فتوی ٰ دیا ہے کہ خود کش حملے حرام ہیں اس اس بیانیے کو آگے لیکر جانا ہے جس کیلئے کمپین کی ضرورت ہے ۔

ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ مذہب میں جبری تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ، سندھ کے علاقوں میں پیش ہونے والے واقعات معاشرتی ہیں ،مذہبی نہیں ،مذہبی مسئلہ بعد میں بن جاتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ابتداً ایسا ہوتا ہے کہ ایک لڑکی اور ایک لڑکے کے درمیان دوستی بن جاتی ہے اور پھر شادی کا فیصلہ کر تے ہیں چنانچہ وہ سندھ کو چھوڑ کر پنجاب آجاتے ہیں اور کورٹ میرج کرلیتے ہیں اور پھر لڑکی اسلام قبول کرلیتی ہے جس کے بعد مذہبی معاملہ آجاتاہے ۔