Live Updates

صدارتی نظام کے بالکل حق میں نہیں ہوں، جہانگیرترین

ملک میں صدارتی نظام کی بالکل ضرورت نہیں، بجٹ میں ایسی پالیسیاں بنائیں گے جس سے انڈسٹری چلے۔ انہوں نے لودھراں میں میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اپریل 19:06

صدارتی نظام کے بالکل حق میں نہیں ہوں، جہانگیرترین
لودھراں(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 اپریل 2019ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہیانگیرترین نے کہا ہے کہ صدارتی نظام کے بالکل حق میں نہیں ہوں،ملک میں صدارتی نظام کی بالکل ضرورت نہیں، بجٹ میں ایسی پالیسیاں بنائیں گے جس سے انڈسٹری چلے۔ انہوں نے لودھراں میں کارکنان اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملکی انڈسٹری کو بند کردیا تھا۔

لیکن ہم ملکی کی صنعتوں کو فروغ دیں گے۔ آئندہ بجٹ میں ایسی پالیسیاں بنائیں گے کہ ملک کی انڈسٹری چلے۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام کے بالکل حق میں نہیں ہوں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ اسد عمر اور انہوں نے مل کر آٹھ سال اسٹیٹس کو کیخلاف جدوجہد کی، آج بھی اسد عمر کی جدوجہد کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں ۔

(جاری ہے)

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ کابینہ سے جانے کے باوجود اسد عمر کو پارٹی میں اہم مقام حاصل ہے، جو ہمیشہ قائم رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پوری پارٹی اسد عمر کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، میں بھی اسد عمر کی جدوجہد کو احترام کی نظرسے دیکھتا ہوں۔ فرحان ورک کی جانب سے دیئے گئے تمام بیانات اور الزامات جھوٹ اور غلط ہیں۔

واضح رہے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرحان ورک بہت زیاہ سرگرم ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا پر کمپین چلائی ہے کہ اسد عمر کو نکلوانے میں جہانگیر ترین کا کردار ہے لیکن اب جہانگیرترین نے ان تمام افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسدعمر کی بہت عزت کرتے ہیں اوراسدعمر ہمیشہ پاکستان تحریکِ انصاف کا حصہ رہیں گے۔ اس سے پہلے ایک کمین بھی چلائی گئی جس میں جہانگیر ترین کی ایک ٹیلیفونک کال چلائی جو انہوں نے ندیم ملک کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فیصلے وقت پر کر لینے چاہئیں اگر وقت پر نہ کیے جائیں تو نقصان ہوتا ہے۔

اس کے بعد انہوںنے اسد عمر کی ایک پریس کانفرنس کی فوٹیج چلائی جس میں وہ جہانگیر ترین کو بالواسطہ کہہ رہے تھے کہ ان افلاطونوں سے کہیں کہ فیصلے وقت پر ہی ہوتے ہیں۔ مجھے پتا ہے کہ میں اپنی عوام پر کتنا بوجھ ڈال سکتا ہوں نہ کہ ان افلاطونوں کو۔یوں اسد عمر نے جہانگیر ترین کی ایک پروگرام میں کال کا جواب پریس کانفرنس کے ذریعے دیا۔اب آپ کو اندازہ ہو گیا کہ جہانگیرترین اور اسد عمر کے درمیان کیاچل رہا تھا اور کون سا فیصلہ لیٹ ہوا جس کی پاداش میں اسد عمر کی قربانی دے دی گئی۔

اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ جہانگیر ترین نے آغاز میں ہی اسد عمر اور وزیر اعظم کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا مشورہ دے دیا تھا مگر وہ نہیں مانے تھے اور جب آخر میں جانا پڑا تو جہانگیر ترین نے بتا دیاکہ فیصلوں میں اگر تاخیر ہو جائے تو ان کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ سے متعلق تازہ ترین معلومات