وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر کو ملوانے کیلئے کردار ادا کروں گا، اسد قیصر

چاہتا ہوں کہ قومی مفاد میں سب کو مل کرچلنا چاہیے، نیت ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہوسکتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اپریل 19:42

وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر کو ملوانے کیلئے کردار ادا کروں گا، اسد قیصر
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 اپریل 2019ء) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر کو ملوانے کیلئے کردار ادا کروں گا، چاہتا ہوں کہ قومی مفاد میں سب کو مل کرچلنا چاہیے،نیت ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہوسکتا ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال پرکہا کہ شہبازشریف سے وزیراعظم کا ہاتھ نہ ملانے کا بیان یا خواہش کا سوال ان سے ہی کرنا چاہیے، کیونکہ میں جس پوزیشن پر ہوں مجھے بڑی احتیاط سے بات کرنی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ضرورت پڑی تووزیراعظم عمران خان اوراپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو ملوانے پر ضرور کردار ادا کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میں تو چاہتا ہوں کہ قومی مفاد میں سب کو مل کرچلنا چاہیے۔اسد قیصر نے کہا کہ نیت ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

اسد قیصر نے کہا کہ میں نے ہمیشہ بھرپور کوشش کی ہے کہ ایوان کو رولز کے مطابق ہی چلایا جائے۔لیکن اسپیکر کیلئے ہمیشہ مشکل یہ ہوتی ہے کہ اس سے نہ تو حکومت خوش ہوتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن خوش ہوتی ہے۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ مجھے وزیراعلیٰ نہیں بنایا، تویہ پارٹی کی مرضی ہے میں پارٹی کے ڈسپلن کا پابند ہوں اور رہوں گا۔ میں نے عمران خان کے ساتھ زندگی کے 22سال گزارے ہیں،انہوں نے کہا کہ میرا عمران خان کے ساتھ تعلق عہدوں کیلئے نہیں ہے ، مجھے یقین ہے عمران خان ایک مخلص اور دیانتدار آدمی ہے۔اسدقیصر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان ملک کومعاشی بدحالی سے نکال کر خوشحالی کی جانب گامزن کریں گے۔

واضح رہے حکومتی وزراء کی جانب سے واضح کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے ہاتھ نہیں ملانا چاہتے کیونکہ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کرپٹ آدمی ہے۔ جس کے خلاف کیسز چل رہے ہیں۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ایوان میں قانون سازی یا کوئی بھی معاملہ ہو، ملاقات کی بجائے خط وکتابت سے بات چیت کی جائے۔ لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو اہمیت نہ دی گئی تو لیڈر آف ہاؤس کو بھی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ اپوزیشن لیڈر سے اہم قومی معاملات پر خود مشاورت کریں۔