سپریم کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر قتل کے ملزم کو بری کرنے کا حکم دیدیا

اللہ تعالیٰ سب جاننے کے باوجودروزقیامت گواہیاں طلب کریں گے. چیف جسٹس کے ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اپریل 15:26

سپریم کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر قتل کے ملزم کو بری کرنے کا حکم دیدیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 22 اپریل۔2019ء) چیف جسٹس آ صف کھوسہ قتل کے ملزم شاہد حمید کوعدم شواہد کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گواہی لینے کااصول تواللہ تعالیٰ کابھی ہے، اللہ تعالیٰ سب جاننے کے باوجودروزقیامت گواہیاں طلب کریں گے. تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آ صف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے قتل کے ملزم شاہد حمیدکی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی ، سماعت میں چیف جسٹس نے کہا گواہی لینے کا اصول تو اللہ تعالیٰ کا بھی ہے، اللہ تعالیٰ سب جاننے کے باوجود روز قیامت گواہیاں طلب کریں گے، آنکھ، منہ، ہاتھ سب گواہی دیں گے.

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ ثبوت مانگنا اللہ کانظام ہے، ملزم اصلی گواہی نقلی،سب مقدمات میں ایک خرابی ہے، ہرکیس میں سپریم کورٹ کوہی کہنا پڑتا ہے گواہی قابل قبول نہیں، کوشش کر رہے ہیں تاکہ نظام درست ہوسکے. جسٹس آصف کھوسہ نے کہاوقوعہ کاایک گواہ غضنفرپٹواری20سال سے لاہور میںتعینات ہے، پٹواری کے پاس تو سارے علاقے کا ریکارڈ ہوتا ہے، پٹواری بے ایمان گواہ نکل آئے تو نظام کا کیا ہوگا.

عدالت نے استفسار کیا لاہورمیں تعینات بندہ شیخوپورہ میں وقوعے کاگواہ کیسے بن سکتا ہے، پراسیکیوشن شک سے بالاتر شواہد پیش نہیں کرسکی. چیف جسٹس نے ملزم شاہدحمید کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کرتے ہوئے کہا ملزم توبری ہوااب پٹواری صاحب کاکیاکریں، جس پر وکیل کا کہنا تھا عدالت پٹواری غضنفر کو معافی دے دے. خیال رہے ملزم شاہدحمیدپرمحمدعثمان کو2009 میں قتل کرنےکاالزام تھا، ٹرائل کورٹ نے ملزم کوسزائے موت سنائی تھی اور ملزم کی سزا کوہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا.

دوسری جانب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بیوی کے قتل میں نامزدملزم ناصرکو12 سال بعد بری کردیا تھا، ٹرائل کورٹ نے جھنگ کے رہائشی ملزم ناصر کو پھانسی کی سزا سنائی تھی اور ہائی کورٹ نے ملزم کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی تھی.