پنجاب پولیس کے پاس اب کارکردگی میں بہتری لانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ،کیپٹن (ر) عارف نواز

ً سستی اور کاہلی کی گنجائش نہیں عوام میں پولیس کے امیج کو ہر صورت میں بہتر کرنا ہو گا ں*باتیں کرنے کا وقت گزر چکا عملی میدان میں اترنا ہو گا، جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ عام شہریوں کے ساتھ اچھے رویئے سے پیش آ کر پنجاب پولیس کا عوام میں تاثر بہتر کیا جائے،آئی جی پنجاب پولیس کا پولیس دربار سے خطاب

پیر اپریل 22:08

پنجاب پولیس کے پاس اب کارکردگی میں بہتری لانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 اپریل2019ء) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس کے پاس اب کارکردگی میں بہتری لانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ، سستی اور کاہلی کی گنجائش نہیں عوام میں پولیس کے امیج کو ہر صورت میں بہتر کرنا ہو گا باتیں کرنے کا وقت گزر چکا عملی میدان میں اترنا ہو گا اور جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ عام شہریوں کے ساتھ اچھے رویئے سے پیش آ کر پنجاب پولیس کا عوام میں تاثر بہتر کیا جائے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہو ںنے اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعدپولیس لائنز راولپنڈی میں منعقدہ پہلے پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ریجنل پولیس افسر راولپنڈی احمد اسحق جہانگیر، سی پی او راولپنڈی عباس احسن ، اٹک، جہلم ، چکوال کے ڈی پی اوز ، راولپنڈی رینج کے اعلی پولیس افسران ، ایس ایچ اوز ، سب انسپکٹروں اسسٹنٹ سب انسپکٹروں اور اہلکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی آئی جی نے کہا کہ اوسطا ہر سال 54 ہزار پولیس افسران او راہلکاروں کو قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر محکمانہ سزائیں بھگتنا پڑتی ہیں مگر اس کے باوجود اس کے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں لہٰذا پولیس کو اپنی کارکردگی اور کردار کے ذریعے عوام میں اپنے تاثر کو بہتر کرنا ہو گا انہو ں نے کہا کہ سینئرافسران بھی اپنے ماتحتوں سے اچھا برتائو کریں ان کے مسائل کو سمجھیں اور بلا جواز کاروائی سے اجتناب کریں اور اگر قوائذ و ضوابط کی خلاف ورزی ہو تو قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے او رکسی صورت میں ماتحتوں کے ساتھ غلط برتائو نہ کیا جائے انہو ںنے کہا کہ ماتحتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے افسرا ن کی ہدایات پر عمل کریں ڈسپلن کی سختی سے پابندی کریں او رایسی نوبت نہ آنے دیں کہ ان کے خلاف سختی سے پیش آیا جائے یا کوئی قانونی کاروائی عمل میںلائی جائے انہوں نے کہا کہ پولیس افسران واہلکار اپنے اندر خوف خدا پیدا کریں عہدہ اللہ تعالی کی نعمت ہے، اس کی قدر اور خود کو اس عہدے کا اہل ثابت کریں عوام کی خدمت عبادت سے کم نہیں اچھے برتائو اور کارکردگی سے لوگوں کی دعائیں لیں اور بددعائوں سے بچیں انہوں نے کہا کہ وہ محکمہ پولیس کے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ تمام پولیس افسران و اہلکاروں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں اس ضمن میں پولیس کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور امیدہے کہ 2009میں منجمد شدہ رسک الائونس کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب محکمہ پولیس کو عید سے پہلے خوش خبری دیں گے انہو ںنے کہا کہ محکمہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ جرائم کے کنٹرول میں پولیس فورس مستعدی سے کاروائی کر سکے آر پی او احمد اسحق جہانگیرنے کہا کہ سکیورٹی کے حوالے سے راولپنڈی حساس ریجن ہے اور پولیس فورس حساس سکیورٹی ڈیوٹیاں بھی سرانجام دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ تمام پولیس سپاہ نے آپریشن ضرب عضب ، رد الفساد اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائیوں میںہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور90پولیس افسران اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ہے آئی جی پولیس پنجاب نے اس موقع پر پولیس افسران و اہلکاروں سے تجاویز اور شکایات بھی سنیں اور موقع پر ضروری احکامات جاری کئے انہو ںنے یادگار شہدا پر پھول بھی چڑھائے۔

متعلقہ عنوان :