آج کل ملک میں صدارتی نظام کی باتیں چل رہی ہیں پہلے بھی یہ بحث ہوتی رہی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، وزیراعلیٰ سندھ

آئین میں سینئر وزیر کے عہدے کی گنجائش موجود ہے، سید مراد علی شاہ کا سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال آپکو حکومت کرتے ہوئے گیارہ سال ہوچکے ہیں اب بھی کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے کیا وجہ ہے مقدمات بڑھ رہے ہیں، نصرت سحر عباسی آپ لوگوں نے خود رولز بنائے ہیں اور آپ سوال کی جگہ تقریر کریں گے تو جواب کے لیئے دوسرے ارکان رہ جائیں گے، خرم شیر زمان

پیر اپریل 23:51

آج کل ملک میں صدارتی نظام کی باتیں چل رہی ہیں پہلے بھی یہ بحث ہوتی رہی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اپریل2019ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آج کل ملک میں صدارتی نظام کی باتیں چل رہی ہیں پہلے بھی یہ بحث ہوتی رہی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا،آئین میں سینئر وزیر کے عہدے کی گنجائش موجود ہے انہوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی میںمحکمہ قانون سے متعلق وقفہ سوالات میں ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

وزیر اعلی سندھ وزارت قانون کے اانچارج وزیر ہیں۔جی ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی نے نشاندہی کی کہ صوبے کی اتنی بڑی آبادی کے لئے پراسیکیوٹرز کی تعداد بہت کم ہے ۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ ایک خودمختارادارہ ہے ،پراسیکیوٹرز کی بھرتیاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے زریعے ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

ایم کیو ایم کے جاوید حنیف نے کہا کہ پراسیکیوٹرز کی زیادہ تربھرتیاں دیہی سندھ سے ہوئی ہیں۔

ایوان کو بتایا گیا کہ سندھ کی27اضلاع کی عدالتوں میں 42 ہزار کرمنل۔کیسز زیرالتواہیں ۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ پہلاصوبہ ہے جس نے ثالثی کانظام متعارف کرایاہے اس کا مقصد یہ ہے کہ مقدمات کا جلد تصفیہ ممکن ہوسکے۔ کارروائی کے دوران اسپیکر آغا سراج درانی اور پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی خرم شیر زمان کے درمیان نوک جھونک بھی ہوتی رہی۔اسپیکر نے خرم شیر زمان سے کہا کہ آپ لوگوں نے خود رولز بنائے ہیں اور آپ سوال کی جگہ تقریر کریں گے تو جواب کے لیئے دوسرے ارکان رہ جائیں گے۔

وزیر اعلی سندھ نے بھی کہا کہ فاضل دوست نے جو سوال کیا ہے وہ وہ تین دفعہ دے چکا ہوں۔،اگریہ تقریر کریں گے تو پھر اس کا جواب جلسے میں دوں گا ۔ جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ آپکو حکومت کرتے ہوئے گیارہ سال ہوچکے ہیں اب بھی کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے کیا وجہ ہے مقدمات بڑھ رہے ہیں ۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے اس وقت 542 ڈی پی پیز بھرتی کیئے جن میں 76 پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم ایاز سومروجب وزیر قانون تھے اس وقت بھی ہم نے بھرتی کی تھی۔نصرت سحر عباسی نے کہا کہ محراب پور، نوشھرو فیروز میں 998 .32 ملین کی عدالتی عمارت 2019 میں مکمل ہونی ہے وہ کب مکمل ہوگی۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ مجھے معلومات نہیں تاہم اتنا معلوم ہے 2020 جون میں مکمل ہوگی ۔ جس پر نصرت سحر عباسی نے کہا کہ عوام کا پیسہ ہے رونا وفاق کا رویا جارہا ہے ہم سندھ کا رونا روتے ہیں ۔انہوں نے وزیر اعلی سندھ سے کہا کہ آپ بتائیں کہ اکانٹنٹ جنرل نے جو کہا ہے کہ 292 ارب جس کا ریکارڈ نہیں ہے ۔ جس پر وزیر اعلی نے کہا کہ میں جواب دوں گا تو بولا جائے گا سریا کتنا تھا سیمنٹ کتنا تھا ۔