مسٹر سپیکر یہ دوغلا پالیسی کیوں؟

بلاول بھٹو نے حکومت سمیت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو بھی آڑے ہاتھوں لیا

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل اپریل 06:27

مسٹر سپیکر یہ دوغلا پالیسی کیوں؟
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2019ء) گزشتہ روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔وزیر اعظم پاکستان سمیت متعدد وزرا کو بھی کچوکے لگاتے رہے ۔ان کے ذومعنی جملوں سے تنگ آ کر سپیکر قومی اسمبلی نے لفظ حذف کرنا چاہے تو بلاول بھٹو نے انہیں بھی تنبہیہ کرتے ہوئے کہا کہ دوغلی پالیسی نہیں چلے گی۔

اپنی تقریر کے دوران بلاول بھٹو نے فواد چوہدری کو وزارت سے نکالنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے بھائی فواد چوہدری کو کیوں نکالا؟ہم نے مان لیا کہ وہ ایک پڑھا لکھا جاہل ہے اور اس سے وزارت نہیں سنبھالی گئی تو اس پر سپیکر قومی اسمبلی نے جاہل کا لفظ حذف کرنے کو کہا تو بلاول نے اسد قیصر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزرا ہمیں ڈکیت کہیں چور کہیں ملک دشمن کہیں آپ خاموش رہتے ہیں اور میرے جاہل کہنے پر آپ لفظ حذف کررہے اور مجھے ٹوک رہے ہیں ایسی دوغلی پالیسی کیوں؟یہی نہیں بلکہ بلاول نے حکومت پر شدیدی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اس سوال کا جواب دیا جائے کہ جب آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل میں ایک ہفتہ باقی تھااور ملکی بجٹ پیش ہونے میں ایک مہینہ تو حکومت کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ وزیر خزانہ اسد عمر کو ہٹا دیا گیا۔

(جاری ہے)

آخر ایسا کیا مسئلہ تھا کیا وہ نااہل تھا اس لیے اسے ہٹایا گیا۔بلاول بھٹو نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وزرا کو تبدیل کرنے یا وزارتوں سے ہٹانے سے وزیراعظم عمران خان کی نالائقی اور نااہلی چھپی نہیں رہ سکے گی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ حکومت تو زرداری کو چور ڈاکو اور ملک دشمن قرار دیتی تھی۔اور یہ لوگ پچھلے دس سال سے ہماری قرضہ پالیسیوں اور معیشت کی پلاننگ کو نقصان دہ قرار دیتے آئے ہیں تو پھر آج صدر زرداری کی حکومت کا وزیر خزانہ کیوں لیا ہے ایسی کیا مجبوری تھی قوم کو بتایا جائے۔بلاول بھٹو کی اس تقریر پر ایوان میں شور مچ گیا جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کچھ دیر کے لیے موقوف کر دیا۔