رواں برس کے آخر تک دس ملین یمنی موت کے منہ میں چلے جائیں گے

خوراک کی قلت اور بھوک معصوم بچوں سمیت لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دے گی

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل اپریل 07:09

رواں برس کے آخر تک دس ملین یمنی موت کے منہ میں چلے جائیں گے
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2019ء)   ایک عرصہ سے خانہ جنگی کا شکار بنا ملک یمن آج بھی امن کو ترستا ہے۔خطے کے چند ایک مسائل کی وجہ سے یمن ایسی جنگ کی لپیٹ میں ہے جو نہ شروع ہوتی ہے اور نہ ختم۔اب تک کے عرصے میں یمن کے ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ باقی کے لوگ بھی اسی راہ پر ہیں۔یو این او کی رپورٹ کے مطابق یمن میں خوراک کی اس قدر قلت ہے کی فی آدمی کو سٹینڈرڈ کا کھانا ملنا تو دور کی بات بنیادی ضرورت ہی پوری نہیں ہوپاتی۔

اچھی اور مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے معصوم بچے پیدا ہوتے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ بڑے افراد بھی معذوری کا شکار ہونے کے بعد مر جاتے ہیں۔خانہ جنگی اور ہمسایہ ملک سے لازم کی گئی جنگ کے نتیجے میں یمن کاکوئی والی وارث نہیں ہے۔

(جاری ہے)

ملکی سطح پر خواراک کی پیداوار بہت کم ہے جبکہ بیرونی ممالک سے بھی خوراک نہیں پہنچ پا رہی۔عالمی تنظیم کے مطابق اس وقت یمن میں خوراک کا دارومدار مکمل طور پر بیرونی امداد پر ہے اور بیرون ممالک سے مدد کی صورت میں جو خوراک وہاں پہنچتی ہے وہ اس قدر کم ہوتی ہے کہ سبھی لوگوں میں پوری ہی نہیں ہوتی۔

یون این او کے نمائندے کا کہنا تھا کہ آج کے جدید دور میں بھی یمنی افراد بھوک سے مر رہے ہیں اور معصوم بچے تڑپ رہے ہیں۔عالمی راہنماﺅں کو چاہیے کہ وہ یمن کے معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی کے ساتھ وہاں خوراک کا بھی بندوبست کریں ۔یو این او کے نمائندے نے واضح طور پر کہا کہ یمن کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی رواں برس دسمبر تک موت کے منہ میں چلی جائے گی اور یہ رفتار ایسے رہی تو وہ وقت دور نہیں جب یمن کا آخری باشندہ بھی کھانا نہ ملنے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے گا۔

متعلقہ عنوان :