حکومت نے موسم گرما میں 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا

رواں موسم گرما میں بہت کم موقعوں پر لوڈ میجمنٹ کرنی پڑے گی اور صارفین کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔ وزارت توانائی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل اپریل 12:04

حکومت نے موسم گرما میں 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23 اپریل 2019ء) : پاکستانیوں کو اس بار موسم گرما میں 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔وزارت توانی نے اعلان کیا ہے کہ رواں موسم گرما میں بہت کم موقعوں پر لوڈ میجمنٹ کرنی پڑے گی اور صارفین کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔تاہم صارفین کو بجلی کے استعمال میں احیتاط برتنی چاہئیے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال صفر ہے۔گذشتہ روز بجلی کی طلب 16020 میگا واٹ اور پیداوار 17500 میگا واٹ رہی۔اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت نے رمضان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کم رکھنے اور صنعت کو زیادہ سے زیادہ بجلی کی فراہمی کے حوالے سے بیک اپ پلان تیار کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں تیار کیے گئے منصوبے کے تحت دو تھرمل پاور جینکو تھری اور جینکو ون کو بیک اپ میں رکھا گیا ۔

(جاری ہے)

یہاں سے بجلی کی پیدوار شارٹ فال کو دیکھتے ہوئے شروع کی جائے گی ۔ جینکو تھری سے 356 میگاواٹ بجلی اور جینکو ون سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی ۔تربیلا اور منگلا میں بھی پانی کی سطح پہلے سے بہتر ہو رہی ہے اور ایک اندازہ کے مطابق رمضان تک پانی کی سطح مزید بہتر ہو نے پر 4 سے 6 ہزار میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار یہاں سے کی جا سکے گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں یہ پہلا ایسا کام ہے جس کو وقت سے پہلے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے ، اپریل کی غیر متوقع بارشیں اور موسم کی بہتری بھی لوڈ شیڈنگ کی کمی میں اہم کردار ادا کر یں گی ۔

واضح رہے کے موجودہ حکومت کے دور میں پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام پریشانی میں مبتلا ہو گئی تھی اور اس سلسلے میں عوام نے مہنگائی بم گرانے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا تاہم اب رمضان المبارک میں کم سے کم لوڈ شیڈنگ کی خبر نے عوام میں تھوڑا حوصلہ پیدا کیا جا رہا ہے اور اُمید کی جا رہی ہے کہ رمضان المبارک میں بجلی کی کم از کم لوڈ شیڈنگ کی جائے گی تاکہ عوام کو مشکل پیش نہ آئے۔