کیا جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں؟

عمران خان کے دورہ ایران کے موقع پر کی گئی گفتگو پر وزیراعظم کو تنقید کا سامنا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل اپریل 12:28

کیا جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں؟
تہران (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اپریل 2019ء) : وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایران کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا کہ جاپان اور جرمنی کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کو لے کر ان پر بے جا تنقید کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں عمران خان کو یورپی ملک جرمنی اور ایشیائی ملک جاپان کو ہمسایہ ممالک قرار دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جتنی زیادہ آپ تجارت کریں گے آپ کے تعلقات اتنے ہی مضبوط ہوں گے۔ جرمنی اور جاپان نے لاکھوں شہریوں کو ہلاک کیا۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا اور جاپان اور جرمنی کی سرحد پر مل کر صنعتیں لگائیں اور اس کے بعد سے ان کے درمیان خراب تعلقات کا کوئی سوال ہی نہیں کیونکہ ان کے اقتصادی مفادات ایک ہیں۔

(جاری ہے)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان تو اتحادی تھے تو پھر انہوں نے ایک دوسرے کے لاکھوں شہریوں کو کیسے ہلاک کر دیا اور یہ بھی کہ ہزاروں میل دور واقع یہ دو ملک ایک دوسرے کے ہمسائے کیسے ہو سکتے ہیں؟
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو لے کر وزیراعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے دنیا کے جغرافیے کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔

کچھ صارفین نے کہا کہ عمران خان شادی جرمنی اور فرانس کی بات کرنا چاہ رہے تھے ہو سکتا ہے کہ ان کی زبان پھسل گئی ہو اور زبان پر فرانس کی جگہ جاپان کا نام آ گیا ہو۔ ایسے میں اپوزیشن رہنما بلاول بھٹو زرداری نے بھی عمران خان پر تنقید کرنے کا یہ موقع خالی نہیں جانے دیا اور مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمارے وزیراعظم سوچتے ہیں کہ جرمنی اور جاپان کامشترکہ بارڈر ہے۔

یہ کتنا شرمناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ کھیلنے کی بنیاد پر آکسفورڈ میں داخلہ ملے گا تو ایسا ہی ہوگا۔
اس سارے معاملے میں وزیراعظم عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان بھی پیچھے نہیں رہیں اور مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ تاریخ کا کیا ہے نئی بن جائے گی اور جغرافیہ بھی ۔ جو کپتان کو لائے ہیں جغرافیہ تبدیل ہونے کے متعلق اچھی طرح واقف ہیں اس لئے کپتان نے جو کہا سچ کہا۔