میانمار کی سپریم کورٹ نے برطانوی خبر رساں اداری کے دو صحافیوں کو سات سال قید کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی

منگل اپریل 13:23

میانمار کی سپریم کورٹ نے برطانوی خبر رساں اداری کے دو صحافیوں کو سات ..
ینگون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 اپریل2019ء) میانمار کی سپریم کورٹ نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر کے پلٹزر پرائز یافتہ دو صحافیوں کو سات سال قید کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ 33سالہ وا لون اور 29 سالہ کائی آ سوئے او کو دسمبر 2017 ء میں میانمار کے سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ۔ قبل ازیں ینگون ہائی کورٹ نے ان کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی۔

(جاری ہے)

عام خیال یہ ہے کہ دونوں صحافیوں کو دس روہنگیا مسلمانوں کے قتل کی تحقیقات پر مبنی رپورٹ شائع کرنے پر سزا دی گئی۔ اس خبر پر ان صحافیوں کو صحافت کی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ پلٹزر پرائز کا حق دار قرار دیا گیا تھا۔ میانمار کی پولیس کے ایک افسر نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے سینئرز نے ان کو دونوں صحافیوں کو پھنسانے کا ہدف دیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں صحافیوں کے خلاف کیس میں بے شمار قانونی نقائص ہیں۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے میانمار کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوکی سے دونوں صحافیوں کی رہائی میں تعاون کی اپیل کی ہے تاہم انہوں نے یہ اپیل مسترد کر دی ہے۔