بی این پی مینگل نے حکومت کے ساتھ اگست میں اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا

وزیراعظم عمران خان کے لیے بری خبر کے ساتھ دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی، تحریک انصاف نے چار ووٹوں کے فرق سے حکومت تشکیل دی،بی این پی مینگل کے پارلیمنٹ میں ارکان کی تعداد پانچ ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل اپریل 13:47

بی این پی مینگل نے حکومت کے ساتھ اگست میں اتحاد  ختم کرنے کا اعلان کر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اپریل 2019ء) :بی این پی مینگل نے حکومت کے ساتھ اتحاد اگست میں ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بی این پی مینگل کے صدر اختر جان مینگل کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا حکومت کے ساتھ اتحاد اگست میں ختم ہو جائے گا اور اس کے بعد پارٹی اپنی راہیں جدا کرنے میں آزاد ہو گی کیونکہ طے شدہ معاہدے کے مطابق اتحاد کی مدت ختم ہو رہی ہے۔

انہوں نے حکومت کے رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گذشتہ سال کیے گئے وعدے کے مطابق بی این پی مینگل اور بلوچستان کے عوام کے تحفظات اور ان کے مسائل کے حل کے لیے 8 رکنی ٹیم تشکیل دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے ساتھ گذشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوا تھا،بی این پی نے چار ارکان کو کمیٹی کے لیے نامزد کیا تاہم حکومت نے اس حوالے سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا اور ارکان نامزد نہیں کیے۔

(جاری ہے)

یہاں پر دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے چار ووٹوں کے فرق سے حکومت تشکیل دی جب کہ بی این پی مینگل کے پارلیمنٹ میں ارکان کی تعداد پانچ ہے۔واضح رہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی پاکستان تحریک انصاف کو بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ایک کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ بی این پی مینگل کے اختلافات پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی افتخار درانی نے اختر مینگل سے رابطہ کیا تھا۔

قبل ازیں 18 ستمبر کو ہونے والےقومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیراعظم عمران خان نے مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دینے کا اعلان کیا ۔وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر وفاقی حکومت کو ایک بڑا دھچکا تب لگا جب حکومتی اتحادی اختر مینگل نے وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان کی مخالفت کی اور جا کر اپوزیشن بنچوں میں بیٹھ گئے تھے۔ جس کے بعد بی این پی مینگل نے شہباز شریف کو پی اے سی کی سربراہی سے ہٹانے کے لیے حکومت کی حمایت کرنے سے انکار کیا تھا ۔