مجھے تبدیل کرنے کا اختیار صرف وزیراعظم کے پاس ہے

اگر عمران خان مجھ سے بہتر کوئی بندہ ڈھونڈ لیں تو اسے لگا دیں ۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل اپریل 13:54

مجھے تبدیل کرنے کا اختیار صرف وزیراعظم کے پاس ہے
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اپریل 2019ء) : وفاقی کابینہ کے بعد پنجاب کابینہ میں بھی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس میں کئی وزرا کے قلمدان تبدیل یا پھر ان سے قلمدان واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ ان وزرا میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا نام بھی زیر گردش ہے۔ وزارت سے ہٹائے جانے کی خبروں پر رد عمل دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ مجھے تبدیل کرنے کا اختیار صرف وزیر اعظم کے پاس ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میرا کام وزیر اعظم کی اُمیدوں کے مطابق نہ ہو اگر عمران خان مجھ سے بہتر کوئی بندہ ڈھونڈ لیں تو میری جگہ اُسے لگا دیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نوازشریف کو گھر کا ماحول ملا ہے جس سے ان کی طبیعت بہتر ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

ہمیں تو معلوم ہے کہ نواز شریف کے حالات کیسے ہیں اس عمر میں کوئی بیماری نہ ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز ان کو ادویات دے رہی ہوں گی جس سے وہ بہتر ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے مزید کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ ہیں ، عثمان بزدار کے ساتھ کام کرنے میں آسانی ہے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پنجاب کابینہ کی 5 وزارتوں میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے مشاورتی عمل بھی تیز کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیاض الحسن چوہان کو دوبارہ پنجاب کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، حسین جہانیاں گردیزی، سردار آصف نکئی، زوار حسین وڑائچ اور حافظ ممتاز کی وزارتیں تبدیل کئے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے 19 اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے مختلف اداروں سے پنجاب حکومت کی کارکردگی رپورٹ طلب کی تھی اور کہا جارہا تھا چھ صوبائی وزرا کے محکمے بھی تبدیل ہونے کا امکان ہے، تبدیل ہونے والے محکموں میں وزارت صحت، خوراک، جیل خانہ جات، توانائی، لیبر، ایکسائز شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وزیر ایکسائز ممتاز احمد کو تبدیل کیے جانے کا امکان جبکہ وزیر تعلیم مراد راس کو وارننگ دی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ مجموعی طور پر چھ سے سات وزرا کی وزارتوں میں تبدیلی کا امکان ہے۔ ان تمام وزرا نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزارت کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کیے جانے کے باوجود کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی۔ مذکورہ وزرا کو بارہا اپنی کارکردگی درست کرنے کی ہدایت کی گئی اور ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنی وزارتوں میں جاری منصوبوں کی رپورٹ بھی وزیراعلیٰ کو بھجوائیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کچھ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی بجائے خفیہ اداروں سے وزرا کی کارکردگی کی رپورٹس طلب کیں جس کے بعد پنجاب کے سات کابینہ اراکین کی وزارتوں کا قلمدان تبدیل کرنے اور نئے مشیر شامل ہونے کا امکان ہے جبکہ بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔