قومی اسمبلی ،طاقت کے زور پر مذہب تبدیل کرنے کی ممانعت ،انسداد بد عنوانی ،سود کے خاتمے کیلئے مالیاتی قوانین میں مزید ترمیم سمیت کئی بل پیش

آئین میں بدعنوانی کی کوئی سزا نہیں ،تمام ملکی مسائل کی وجہ بدعنوانی ہے،ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نہیں کریں گے تو ملک ترقی نہیں کریگا،شیر اکبر خان

منگل اپریل 16:17

قومی اسمبلی ،طاقت کے زور پر مذہب تبدیل کرنے کی ممانعت ،انسداد بد عنوانی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) طاقت کے زور پر مذہب تبدیل کرنے کی ممانعت ،انسداد بد عنوانی ،سود کے خاتمے کیلئے مالیاتی قوانین میں مزید ترمیم ،بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کے حوالے سمیت کئی بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیئے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو انسداد بدعنوانی (ترمیمی) بل 2019ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا اس سلسلے میں تحریک انصاف کے رکن شیراکبر خان نے تحریک پیش کی کہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے بل کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ ملکی آئین میں بدعنوانی کی کوئی سزا نہیں ہے‘ تمام ملکی مسائل کی وجہ بدعنوانی ہے،ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نہیں کریں گے تو ملک ترقی نہیں کرے گا۔

(جاری ہے)

وزیر قانون نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کرپشن کے خلاف ہے اور کرپشن سے متعلقہ تمام قوانین پر نظرثانی کی جارہی ہے۔ یہ بل بھی کمیٹی کو ارسال کردیا جائے۔

بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے تحریک پر رائے لی اور تحریک منظور ہونے پر شیراکبر خان نے بل ایوان میں پیش کیا۔اجلاس کے دور ان چیمبر آف ایگریکلچر کے قیام کا بل ایوان زراعت بل 2019ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ حکومتی رکن ریاض فتیانہ نے حکومتی اور اپوزیشن کے 16 اراکین کے نام سے ایجنڈے پر موجود یہ بل پیش کرنے کے لئے اجازت چاہی‘ تو وزیر قانون فروغ نسیم نے اس بل کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ یہ زبردست بل ہے اور یہ بل پیش کرنے پر تمام اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 70 سے 80 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ اس بل سے بہتری آئے گی۔ ریاض فتیانہ نے بل کے اغراض و مقاصد سے ایوان کو آگاہ کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے تحریک پر ایوان سے رائے لی جس کی منظوری کے بعد ریاض فتیانہ نے یہ بل پیش کیا جسے مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اجلاس کے دور ان طاقت کے زور پر مذہب تبدیل کرنے کی ممانعت کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا پیپلز پارٹی کے رکن نوید عامر جیوا نے تحریک پیش کی کہ بزور طاقت ترغیب دینے یا دھوکہ دہی کے طریقوں سے مذہب تبدیل کرانے کی ممانعت اور اس سے منسلک احکام وضع کرنے کا بل بزور طاقت مذہب تبدیل کرنے کا بل 2019ء پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت مذہبی امور نے بھی کام کیا ہے، یہ بل کمیٹی کو بھجوا دیا جائے۔ ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے اس پر رائے لی۔ تحریک کی منظوری کے بعد نوید عامر جیوا نے بل ایوان میں پیش کیا۔اجلاس کے دور ان دستور (ترمیمی) بل 2019ء آرٹیکل 184 پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئی ، جے یو آئی (ف) کی رکن عالیہ کامران نے تحریک پیش کی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مزید ترمیم کرنے کا بل دستور(ترمیمی) بل 2019ء آرٹیکل 184 پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 183 کے تحت سپریم کورٹ کے دو یا دو سے زیادہ حکومتوں کے درمیان کسی فیصلے کا اختیار ہے تاہم اس میں اپیل کا حق موجود نہیں ہے یہ قانونی سقم ہے۔ کسی متاثرہ فرد کو 30 دن میں چیف جسٹس پاکستان کی تشکیل کردہ لارجر بنچ میں اپیل کا حق ہونا چاہیے‘ اس پر وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت اس بل کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔

تکنیکی اعتبار سے یہ بل درست نہیں ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا 17 رکنی لارجر بنچ کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس پر نظرثانی کہاں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کی آزادی کو سامنے رکھتے ہوئے اس بل کی مخالفت کرتی ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے اس پر رائے لی۔ بعد ازاں گنتی کی گئی۔ تحریک کے حق میں 71 اور مخالفت میں 80 ارکان نے رائے دی۔ اس طرح یہ تحریک مسترد کردی گئی۔

اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں سود کے خاتمے کے لئے مالیاتی قوانین میں مزید ترمیم کرنے کا بل ’’ ربا کا خاتمہ بل 2019ء ‘‘ پیش کردیا گیا۔ مولانا عبدالاکبر چترالی‘ عالیہ کامران‘ شاہدہ اختر علی‘ عبدالشکور اور دیگر کی جانب سے سود کے خاتمے کے لئے مالیاتی قوانین میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کیا گیا۔ بل کے ایک محرک عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت ملک کے تمام قوانین قرآن و سنت کے تابع ہوں گے۔

اسلام میں بیع حلال اور سود حرام ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی سود کے خاتمے کی سفارش کی ہے۔ اگر مدینہ کی اسلامی ریاست بنانی ہے تو سود کا خاتمہ کرکے اس کی بنیاد رکھنا ہوگی۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ربا حرام ہے‘ حکومت اس بل کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنکنگ کا جو نظام رائج ہے اس کے علاوہ آج کل وفاقی شریعت کورٹ میں اس حوالے سے کیس کی سماعت بھی ہو رہی ہے۔

میری تجویز ہے کہ اس بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ اگر بل میں کوئی سقم ہے تو سوڈان اور لیبیا کے بلوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں بینک آف خیبر میں بھی 72 غیر سودی خدمات کی فراہمی شروع کی گئی ہے، ان سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں ایوان نے بل پیش کرنے کی منظوری دیدی جس پر بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن سید جاوید حسنین نے تحریک پیش کی کہ عائلی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ عائلی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں کافی خامیاں ہیں اور کئی چیزیں قرآن و سنت سے متصادم ہیں۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت قرآن و سنت کے متصادم کوئی قانون نہیں رکھنا چاہتی۔

اگر عائلی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں کوئی چیز اس کے خلاف ہے تو اس کو زیربحث لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بل کی کوئی مخالفت نہیں کی۔ ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے تحریک پر رائے لی اور تحریک منظور ہونے پر سید جاوید حسنین نے بل ایوان میں پیش کیا جسے مزید غور کے لئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں خواتین کو مقام کار پر ہراساں کرنے سے تحفظ فراہم کرنے کے ایکٹ 2010ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل ’’مقام کار پر خواتین کو ہراساں کرنے سے تحفظ فراہم کرنے کا (ترمیمی) بل 2019ء پیش کردیا گیا۔

شاہدہ رحمانی نے بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں اس ایوان نے خواتین کو مقام کار پر ہراساں کرنے سے تحفظ فراہم کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ اس بل کے تحت غیر ضروری اور جھوٹی شکایات کا مسئلہ پیش آرہا تھا۔ بل کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری اور جھوٹی شکایات کا تدارک کیا جائے۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ وہ اس بل کی مخالفت نہیں کرتے۔

بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ مشاورت سے اس میں مزید بہتری لائی جاسکے۔ جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا ۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کے حوالے سے بل پیش کردیا گیا،مسلم لیگ (ن) کے رانا ثناء اللہ‘ احسن اقبال‘ رانا تنویر حسین‘ میاں نجیب الدین اویسی‘ عبدالرحمان خان کانجو نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مزید ترمیم کرنے کا بل ’’ دستور (ترمیمی) بل 2019ء کے آرٹیکل ون ‘ 51 ‘ 59‘ 106‘ 154‘ 175الف‘ 198 اور 2018 پیش کرنے کی اجازت چاہی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ دیرینہ ہے۔ 2012ء میں جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظور ہوئی۔ پنجاب اسمبلی نے بھی ایک قرارداد کی منظوری دی جس میں بہاولپور صوبے کی بات بھی کی گئی۔ اس قرارداد میں ایک قومی کمیشن کے قیام کا بھی کہا گیا تھا جو تمام امور کا اعادہ کرے گی لیکن اس کمیشن پر کوئی کام نہیں ہوا۔

ہماری گزارش ہے کہ یہ اہم ایشو ہے اس پر غور ہونا چاہیے اور یہ بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جانا چاہیے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اصولی بنیادوں پر پنجاب میں دو صوبوں کی حمایت کرتی ہے۔ بل میں تین صوبوں کی بات کی گئی ہے اس لئے معاملہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیجا جائے اس پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ یہ اہم ایشو ہے‘ حکومت اور تحریک انصاف نے نیا صوبہ بنانے اور جنوبی پنجاب کو شناخت دینے کی بات کی تھی۔

جولائی میں جنوبی پنجاب میں سول سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ انہوں نے بھی بل قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی محرومیاں مسلم لیگ (ن) کی بیڈ گورننس کا نتیجہ ہے۔ تحریک انصاف الگ صوبہ بنائے گی۔ احسن اقبال نے بھی کہا کہ بہاولپور کے عوام نے قربانیاں دی ہیں۔ آج ایک اہم اور تاریخی دن ہے۔ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو ان کا حق ملنا چاہیے۔

سیکرٹریٹ کا لولی پاپ نہ دیا جائے۔ چوہدری طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کرتے ہیں، اس کو کمیٹی میں بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب اسمبلی میں بھی اس حوالے سے بل لا رہے ہیں۔ اگر سول سیکرٹریٹ بنانے ہیں تو بہاولپور میں بھی سیکرٹریٹ قائم کیا جائے۔ اقبال محمد علی نے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنوبی سندھ کا صوبہ بھی ہونا چاہیے۔

ہم انتظامی بنیادوں پر صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آئین میں نئے صوبوں کا طریقہ کار موجود ہے۔ جہاں تک جنوبی سندھ صوبے کا تعلق ہے تو یہ سندھ اسمبلی کا کام ہے۔ پہلے وہاں سے قرارداد لائی جائے۔ جنہوں نے سندھ کی تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ لسانی اور زبان کی بنیاد پر صوبے نہیں بننے چاہئیں۔

کراچی کو سندھ سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ وہ بل کی مخالفت نہیں کرتے۔ اس بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ بحث و مباحثہ اور افہام و تفہیم سے یہ معاملہ طے ہو۔ بعد ازاں ایوان کی منظوری سے بل پیش کیا گیا۔ ڈپٹی سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔اجلاس کے دور ان امیگریشن(ترمیمی) بل 2019ء مزید مشاورت کیلئے واپس لے لیا گیا ،حکومتی رکن نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک نے ایجنڈے پر موجود امیگریشن آرڈیننس 1979ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل امیگریشن (ترمیمی) بل 2019ء مزید مشاورت کے لئے واپس لے لیا جبکہ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس بل کو مزید بہتر بنا کر نیا بل لائیں گی۔

اجلاس کے دور ان ایجنڈے پر موجود کئی بل موخر کردیئے گئے۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران کشور زہرا ‘ سید امین الحق‘ صلاح الدین‘ انجینئر صابر حسین قائمخانی اور اقبال محمد علی خان کی جانب سے فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2019ء کی دفعہ 489 پیش کرنے کے بل کو موخر کیا گیا۔ اسی طرح بچوں کی شادی کے امتناع کے حوالے سے (ترمیمی) بل کو بھی موخر کیا گیا۔ ایوان میں کشور زہرا‘ اقبال محمد علی خان‘ اسامہ قادری‘ صلاح الدین کی جانب سے فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2019ء کو بھی موخر کیا گیا۔ اسی طرح شاہدہ اختر علی کی جانب سے شہریت ایکٹ 1926ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل بھی موخر کیا گیا۔