قومی اسمبلی ،وزیراعظم کی ایران میں کی گئی تقریر پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان خوب گرما گرمی

وفاقی وزیر مواصلات کے خطاب کے دور ان اپوزیشن نے ’’نو بے بی نو ‘روبے بی رو ‘گوبے بی گو ‘‘کے نعرے اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے آگے سیڑھیوں پر بیٹھ گئے

منگل اپریل 16:28

قومی اسمبلی ،وزیراعظم کی ایران میں کی گئی تقریر پر اپوزیشن اور حکومتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) وزیراعظم عمران خان کی ایران میں کی گئی تقریر پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان خوب گرما گرمی دیکھی گئی ،وفاقی وزیر مواصلات کے خطاب کے دور ان اپوزیشن نے ’’نو بے بی نو ‘روبے بی رو ‘گوبے بی گو ‘‘کے نعرے گئے اور ڈیسک بجاتے رہے ، اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے آگے سیڑھیوں پر بیٹھ گئے جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے انہیں اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی، اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں ،شدید شوری شرابے کے باعث وفاقی وزیر کو ائیر فون کان پر لگاکرتقریر کر نا پڑی، پوری تقریر کے دور ان اپوزیشن اور حکومتی ارکان ایک دوسرے کے خلاف شدیدنعرے بازی کرتے رہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی ایران میں کی گئی تقریر پر ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی کے درمیان گرما گرمی دیکھی گئی ۔

(جاری ہے)

اجلاس کے درو ان وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے وزیراعظم کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم جرمنی اور فرانس کہنا چاہ رہے تھے، ان کی زبان پھسل گئی، وزیر اعظم کا آدھا جملہ دھرایا جا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کی رکن حنا ربانی نے کہا کہ اس ملک کا مذاق بنتا دیکھ کر ہم اب اس ملک کیلئے پریشان ہیں، کسی دوسرے ملک کے ساتھ بات چیت کرنے سے کوئی یار نہیں بن جاتا، حکومت کی ناختم ہونے والی غلطیاں جاری ہیں۔

حنا ربانی کھر نے تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا جو کہتا ہے کہ ملک کو درست کیا جائے تو اس کو ملک دشمن کہا جاتا ہے، ہم اپنے لیے نہیں بلکہ اس ملک کا مذاق بنتے دیکھ کر پریشان ہیں۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ روز لیکچر دئیے جارہے ہیں کہ افغانستان میں کیسی حکومت بننی چاہیے ، اگر ریاست چلانے کے لیے آپ کو ٹریننگ چاہیے تو پہلے ٹریننگ لیں اور پھر سلیکٹ ہوکر آئیں۔

حنا ربانی کھر کے بعد ڈپٹی سپیکر نے وزیر مواصلات مراد سعید نے اظہار خیال کیلئے مائیک دیا تو اپوزیشن نے شدید شور شرابا کرتے ہوئے گو بے بی گو کے نعرے لگائے اور ڈیسک بجاتے رہے جس پر مراد سعید نے کہا کہ ان کو علم ہے کہ میں نے ان کو آئینہ دکھانا ہے اس لیے یہ شور کررہے ہیں۔اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے آگے سیڑھیوں پر بیٹھ گئے جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے انہیں اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔

اس دوران دونوں فریقین میں خوب تلخ کلامی ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی نے احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کے ڈائس کے آگے دھرنا دیا اور شدید شورشرابہ کیا جس کے باعث مراد سعید کو ایئر فون کان پر لگاکر تقریر کر نا پڑی ۔ مراد سعید نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری حادثاتی طور پر پارٹی کے چیئرمین بن گئے ہیں، بلاول اتنی سی عمر میں کمپنی کے چیئرمین بنے تو خوش تاہم جب سوال ہو کہ پیسا کہاں سے آیا تو غصہ ہوجاتے ہیں۔

مراد سعید نے کہا کہ بلاول کے ابو اور پھوپھو کے اکاؤنٹ میں کرپشن کے پیسے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے آٹھ ماہ میں سڑکوں پر سونے والوں کو پناہ گاہیں دیں۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے اپوزیشن کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی پی پی بتائے حسین حقانی جیسے غدار کو کس نے لگایا، جب پاکستانی فوج بھارتی طیارے گرا رہی تھی تب بلاول بھارت کا مقدمہ لڑ رہا تھا، یہ کون کہہ رہا تھا پاکستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ ہے۔

مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور مچاتے ہوئے نو بے بی نو اور رو بے بی رو کے نعرے لگاتے رہے ، اپوزیشن نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور دھرنا دیتے ہوئے گو نیازی گو نیازی گو کے بھی نعرے لگائے۔ ڈپٹی اسپیکر نے نماز کا وقفہ کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا۔