لاہور چیمبر کے عہد یداران سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ پشاور کے 23رکنی وفد کی ملاقات

منگل اپریل 17:12

لاہور چیمبر کے عہد یداران سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ پشاور کے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 اپریل2019ء) لاہور چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ پشاور کے 23رکنی وفد نے ملاقات کی اور صوبائی پالیسی سازی میں چیمبر کے کردار، ٹیکسٹائل سیکٹر، بین الاقوامی مارکیٹ، پاکستانی مصنوعات کی کمی کی وجوہات، فارما سیکٹر، سی پیک میں چیمبر کا کردار اور دیگر کئی موضوعات پر تفصیلی آگاہی حاصل کی۔

وفد کی سربراہی انسٹی ٹیوٹ کے چیف انسٹرکٹر مرزا خالد امین نے کی جبکہ لاہور چیمبر کے سابق صدر طارق حمید، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران ارشد خان و دیگر بھی موجود تھے۔ مرزا خالد امین نے کہا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ زکوٰة و خیرات دینے والے ممالک میں سے ایک ہے مگر ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے ہم بے حد پیچھے ہیں جس کی بڑی وجہ حکومت اور عوام کے درمیان عدم اعتماد ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صنعت و تجارت ، سرمایہ کاری ، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے شعبوں پر ازسرنو پالیسی سازی کے ذریعے ہم اپنی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ شہزاد ناصر نے کہا کہ لاہور چیمبر پالیسی سازی میں مسلسل حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور تجاویز پیش کرتا رہتا ہے اور حکومت لاہور چیمبر کی تجاویز کواہمیت دیتی ہے۔

سی پیک کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملکی مینوفیکچررز کو سی پیک میں ترجیح دینے پر لاہور چیمبر ہمیشہ آواز اٹھاتا رہا ہے اس سلسلے میںلاہور چیمبر نے حکومت کو نوجوانوں کی فنی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی پر مشتمل کورسز کروائے جانے کی تجاویز پیش کی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سی پیک میں روزگار فراہم کیا جا سکے، اس کے ساتھ ہی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سی پیک میں زمین بیچنے کی بجائے لیز پر دینے کی تجویز بھی دی ہے۔

پنجاب کے فوکل چیمبر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لاہور چیمبر کے نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ رواں سال لاہور چیمبر نے پنجاب بھر کے چیمبرز کی میٹنگ کال کی اور بجٹ تجاویز کے حوالے سے مشترکہ علامیہ جاری کرتے ہوئے پنجاب کے چیمبرز کی نمائندگی کی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم پانچ زیرو ریٹڈ سیکٹرز کے علاوہ دیگر شعبوں مثلًا انجینئرنگ مصنوعات، حلال فوڈ سمیت دیگر مزید شعبوں کو بھی مراعات اور فروغ دینے پرکام کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان حلال فوڈ کی ایکسپورٹ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے اس سیکٹر میں ایک فیصد بھی پاکستان کی برآمدات نہیں ہیں جبکہ تمام تر برآمدات غیر مسلم ممالک کی طرف سے کی جاتی ہیں لیکن اب لاہور چیمبر ان تمام چیزوں پر کام کر رہا ہے۔