بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی اور مری کا کیس:پنجاب حکومت، محکمہ جنگلات اور نیب کو نوٹس جاری

ملک ریاض کے بیٹے کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر‘سیکورٹی خدشات ہیں . درخواست میں موقف

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل اپریل 17:37

بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی اور مری کا کیس:پنجاب حکومت، محکمہ جنگلات اور نیب ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 اپریل۔2019ء) سپریم کورٹ پاکستان نے بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی اور مری کے منصوبوں کے لیے زمین کی مد میں دی گئی 50 ارب روپے کی پیش کش پر پنجاب حکومت، محکمہ جنگلات اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کردیا ہے. عدالت عظمیٰ میں جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں بینچ نے بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی اور مری سے متعلق عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی.

دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی اور بتایا کہ ان کے موکل کو سیکورٹی خدشات ہیں.

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ بحریہ ٹاﺅن کراچی کے کیس میں 460 ارب روپے کی بھاری رقم ادا کرنی ہے، یہ خبر عام پونے سے علی ریاض ملک کو شدید سیکورٹی خدشات ہیں. وکیل نے بتایا کہ علی ریاض ملک کو بیان حلفی دبئی یا لندن سفارتخانے میں دینے کی اجازت دی جائے، اس کے علاوہ عدالت کو سیکورٹی خدشات پر باضابطہ درخواست بھی دی جائے گی.

اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ جب آپ کی درخواست آئے گی تب جائزہ لیں گے، ساتھ ہی عدالت نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنی کی استدعا مسترد کردی. دوران سماعت بحریہ ٹاﺅن کی جانب سے کراچی کے منصوبے میں ضمانت کے طور پر دی گئی ملک ریاض اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں کو تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی جس پر عدالت نے ضمانت میں تبدیلی کی ہدایت کردی اور آئندہ ہفتے تمام ڈائریکٹرز کو ضمانت کے ہمراہ رجسٹرار آفس میں پیش ہونے کا حکم دیا.

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ فیصلے پر صرف عملدرآمد کروانا ہے دلائل نہیں سنیں گے، اس پر وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ میڈیا ٹاﺅن، پاکستان ٹاﺅن، جوڈیشل ٹاﺅن سمیت کئی منصوبے جنگلات کی زمین پر ہیں. اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایک نام آپ لینا بھول گئے ہیں، ڈی ایچ اے کا نام کیوں نہیں لیتے؟ اس پر وکیل بحریہ ٹاﺅن طارق رحیم نے کہا کہ ڈی ایچ اے شاملات کی زمین پر ہے.

بعد ازاں عدالت نے جنگلات کی زمین پر قبضے سے متعلق پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ جس نے بھی قبضہ کیا ہوا اس سے نمٹ لیں گے. اس موقع پر عدالت نے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی، کمشنر راولپنڈٰی کو بھی نوٹس جاری کردیا اور آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ حکام کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی.