نقیب اللہ محسود کی اہلیہ نے پہلے انٹرویو میں شوہر سے جڑی یادیں بیان کر دیں

نقیب کو دلکش لگنے کا بہت شوق تھا،میں چھیڑا کرتی تھی کہ دلہنوں کی طرح تیار ہونے میں بہت دیر لگاتے ہو،کراچی جانے کے بعد روز فون پر بات کرتا تھا،آخری بار فون پر بیٹے کی ویڈیو مانگی اور کہا میں واپس نہیں آ سکتا اور پھر غائب ہو گیا،نہیں جانتی تھی کی راؤ انوار اسے مجھ سے چھین چکا ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل اپریل 17:37

نقیب اللہ محسود کی اہلیہ نے پہلے انٹرویو میں شوہر سے جڑی یادیں بیان ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین23اپریل2019ء) مقتول نقیب اللہ محسود کی اہلیہ کا  ٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میں اس کے ساتھ بہت خوش تھی،اور اس کی ہر چیز کا خیال رکھتی تھی۔جس کے لیے وہ دوستوں کے سامنے ہمیشہ میری تعریف کیا کرتا تھا۔آپ ضرور نقیب کی تصاویر بھی دیکھ چکے ہوں گے۔اسے دلکش دکھنا اور پھر تیار ہونے کے بعد اپنی تصاویر لے کر لطف اندوز ہونے کا شوق تھا۔

میں اکثر اسے چھیڑا کرتی تھی تھی کہ اور کتنی دیر لگاؤ کے تیار ہونے میں،اتنی دیر تو دلہنیں بھی نہیں لگاتی۔لیکن ان کے چاہنےو الے بہت زیادہ تھے جن کے بارے میں وہ اکثر مجھے بتایا بھی کرتا تھا۔ان میں لڑکیاں بھی شامل تھیں جن سے مجھے پریشانی ہوتی تھی۔وہ کراچی جانے کے بعد بھی مجھے نہیں بھولا ،ہم روز فون پر بات کرتے تھے۔

(جاری ہے)

وہ ہر دن کہتا تھا کہ وہ جلدی گھر لوٹ آئے گا۔

اور جب میں اپنے گھر ڈیرہ اسماعیل خان جاتی تھی تو وہ کہتا تھا کہ میں جلدی واپس آؤں گا پھر ہم ساتھ جنوبی وزیرستان جائیں گے،نقیب اللہ قتل ہونے سے قبل 4 ماہ سے کراچی میں مقیم تھا جو اپنی رہائش کی تلاش میں تھا۔وہ اکثر کبھی اپنے انکل کے گھر یا کسی دوست کے گھر قیام کرتا تھا،آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے بہت سے دوست تھے اور وہ تعمیراتی جگہ پر کام کرتا تھا۔

نقیب کی اہلیہ نے یہ بھی کہا کہ ایک یوٹیوب کی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میں کراچی کے علاقت سہراب گوٹھ کے ایک سکول میں پڑھاتی ہوں۔لیکن میری جب سے شادی ہوئی ہے اپنے گھر والوں کے ساتھ سسرال میں رہتی ہوں۔آخری بار جب ہم نے بات کی تو اس نے مجھ سے بیٹے کی ویڈیو مانگی تھی،بیٹے نے تب چلنا سیکھا تھا لیکن چونکہ نقیب وہاں نہیں تھا اس لیے وہ یہ دیکھنے سے محروم رہا۔فون بند کرنے سے قبل اس نے کہا تھا کہ مجھے پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے میں اپنے آپ کو واپس گھر نہیں لا سکتا۔اور یہ آخری الفاظ تھے۔اس کے بعد اس نے نہ تو مجھے فون کیا اور نہ ہی وہ کبھی ڈیرہ اسماعیل خان یا جنوبی وزیرستان نہیں لوٹا۔میں غصے میں تھی لیکن نہیں جانتی تھی کی راؤ انوار اسے مجھ سے چھین چکا ہے۔