سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کی جانب سے راولپنڈی اور مری میں اراضی کے عوض 50 ارب روپے کی پیش کش پر سماعت

ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنی کی استدعا مسترد پنجاب حکومت، صوبائی محکمہ جنگلات،نیب ،ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی اور کمشنر راولپنڈی کو نوٹس جاری

منگل اپریل 18:58

سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کی جانب سے راولپنڈی اور مری میں اراضی کے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 اپریل2019ء) سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کی جانب سے راولپنڈی اور مری میں اپنے منصوبوں کی اراضی کے عوض 50 ارب روپے کی پیش کش پر پنجاب حکومت، صوبائی محکمہ جنگلات،نیب ،ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی اور کمشنر راولپنڈی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کواپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی گئی ہے۔

عدالت نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت اس معاملے سے متعلق دلائل نہیں سنے گی بلکہ اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرائے گی، منگل کوجسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے راولپنڈی اور مری بحریہ ٹائون پراجیکٹس کے حوالے سے عملدرآمد کیس کی سماعت کی ،اس موقع پربحریہ ٹائون کے وکیل اظہر صدیق نے پیش ہوکر ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنی کیلئے استدعاکی اور عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو سیکورٹی خدشات لاحق ہیں جس کی بنا ء پر انہیں عدالت میں خاضری سے استثنیٰ دیا جائے ، ان کایہ بھی کہناتھا کہ ہم نے بحریہ ٹائون کراچی کی اراضی کے عوض 460 ارب روپے کی بھاری رقم ادا کرنی ہے، اور جب سے اس قدر بھاری رقم کی ادائیگی کی خبر عام ہو ئی ہے تب سے علی ریاض ملک کو زیادہ سیکورٹی خدشات لاحق ہوگئے ہیں، اس لئے استدعا ہے کہ علی ریاض ملک کودبئی یا لندن سفارتخانے میں بیان حلفی جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔

(جاری ہے)

ہم سیکورٹی کے حوالے سے عدالت کو ایک باضابطہ درخواست بھی دیں گے، جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے ان سے کہا کہ جب آپ کی درخواست آئے گی تب عدالت اس کا جائزہ لے گی تاہم عدالت نے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صرف فیصلے پرعملدرآمد کرانا ہے، اس معاملے میںدلائل نہیں سنیں گے سماعت کے دوران بحریہ ٹائون کے دوسرے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت سے کہا کہ راولپنڈی میں میڈیا ٹائون، پاکستان ٹائون، جوڈیشل ٹائون سمیت کئی منصوبے جنگلات کی زمین پر بنائے گئے ہیںوہاں صرف بحریہ ٹائون نہیں بنا ، جس پر عدالت نے ان سے کہا کہ شاید ایک نام آپ لینا بھول گئے ہیں، آپ ڈی ایچ اے کا نام کیوں نہیں لیتے، تو ایڈووکیٹ طارق رحیم نے کہا کہ ڈی ایچ اے شاملات کی زمین قائم ہے ۔

بعد ازاں عدالت نے جنگلات کی اراضی پر قبضے سے متعلق صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے واضح کیاکہ جس نے بھی جنگلات کی اراضی پر قبضہ کررکھا ہے عدالت اس سے نمٹ لے گی ، یاد رہے کہ عدالت نے 21 مارچ کوبحریہ ٹائون کراچی کے منصوبے کی اراضی کے عوض 460 ارب روپے کی پیش کش قبول کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا تھا اس کے ساتھ بحریہ ٹائون نے راولپنڈی کی 5 ہزار 4 سو 72 کینال کی زمین کی مد میں 22 ارب جبکہ مانگا مری کے منصوبے کی 4 ہزار 5سو 42 کینال زمین کے عوض23 ارب روپے کی پیش کش کی تھی۔جس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے تمام فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔