پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ پچاس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا

اجلاس ا یجنڈے کی تکمیل کے بعد کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی

منگل اپریل 21:33

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اپریل2019ء) پنجاب اسمبلی کے پینل آف دی چیئرمین میاں محمد شفیع کی زیر صدارت اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پچاس منٹ کی تاخیر سے شروع ہونے والا اجلاس ایجنڈے کی تکمیل کے بعد آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے مختلف اراکین اسمبلی کے سوالات کے جوابات کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ملک احمد خان نے صوبائی وزیر صحت کے حوالے سے کہا کہ وہ ہمیں وزیراعظم کے پروگرام نہ بتائیں۔

ایوان کو بتایا کہ محکمہ پرائمری اینڈ ہیلتھ کیئر کے حوالے سے اس صوبے کا پروگرام کیا ہے۔ اس دوران ملک احمد خان نے قصور میں واقع سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کی نشاندہی کی۔ ملک احمد خان کے صوبائی وزیر صحت پر برہم ہونے پر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ملک احمد خان کی ناراضگی کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

(جاری ہے)

اس موقعہ پر (ن) لیگ کی رکن اسمبلی عظمیٰ زاہد بخاری نے ڈی ایچ کیوز اور پی ایچ کیوز میں عدم تعیناتیوں کی نشاندہی کی۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یاسمین راشد صوبہ پنجاب کی صحت کی اسد عمر ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد اور لیگی رکن انیلا فاطمہ میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اجلاس میں صوبے بھر میں جعلی ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی پر مبنی رپورٹ پیش کی گئی۔ جسے (ن) لیگی رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر صرف لاہور کا ہی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جعلی ادویات پوری طرح فروخت ہو رہی ہیں۔

وقفہ سوالات کے بعد زیرو آور کے دوران ایوان میں محترمہ شاہدہ احمد، منیب الحق، محمد منیب اور سلطان چیمہ کی مفاد عامہ سے متعلق ایجنڈے سے زیر التواء قرار دادیں پیش کی گئیں جو سینئر سٹیزن کو سرکاری ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے مستثنیٰ قرار دینے، کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے اور صوبے کے تمام نجی تعلیمی اداروں کو یکساں یونیفارم اور کتابوں کا انتخاب کرنے کے مطالبات پر مبنی تھیں۔ جنہیں ایوان میں عام بحث کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔ سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔