لاہور ہائیکورٹ،علیم خان کے وکیل سے آف شور کمپنیوں سے متعلق ریکارڈ طلب

درخواست پر مزید کارروائی 6 مئی تک ملتوی

منگل اپریل 21:33

لاہور ہائیکورٹ،علیم خان کے وکیل سے آف شور کمپنیوں سے متعلق ریکارڈ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اپریل2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کے وکیل سے آف شور کمپنیوں سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا اور درخواست پر مزید کارروائی 6 مئی تک ملتوی کر دی۔

(جاری ہے)

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی.

علیم خان کی طرف سے بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیی. عدالت کی جانب سے علیم خان کے وکیل سے استفسار کیا گیا کہ نیب نے کس بنیاد پر عبدالعلیم کے خلاف انکوائری شروع کی جس پر علیم خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آمدن زائد اثاثے اور آفشور کمپنیز کا الزام لگا کر انکوائری شروع کی گئی ہے عدالت نے واضح کیا کہ علیم خان پر نیب نے الزام لگایا کہ علیم خان نے بطور ممبر پنجاب اسمبلی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے اثاثے بنانے بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ 2003 سے 2007 تک عبدالعلیم خان وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی رہی2000سے 2003تک سیکرٹری کوآپریٹو سوسائٹی کا عہدے تھا علیم اینڈ عامر نامی کمپنی نے سیل ڈیڈ کے تحت 739 کینال اراضی خریدی 630 کینال اراضی کا بیانہ دیا گیا.

آئی ٹی کے شعبے پر جب تک وزیر رہے کرپشن کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں 10370 کینال اراضی کے لیے 367 ملین کی رقم ادا کی نیب نے غیر قانونی طور پر الزامات لگا کر گرفتار کیا ہی. عدالت نے آئندہ سماعت آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت چھ مئی تک ملتوی کر دی۔