کواالالمپور سے پرتھ جانے والے طیارے میں سعودی شیرخوار بچی کی وفات

طیارے میں موجود چارڈاکٹرز بھی بچی کو نہ بچاسکے،ائیرایشین نے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں

منگل اپریل 23:17

کواالالمپور سے پرتھ جانے والے طیارے میں سعودی شیرخوار بچی کی وفات
کوالالمپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) ملائیشیا کی ایک فضائی کمپنی ائیرایشیاء کا طیارہ کوالالمپور سے آسٹریلیا کے شہر پرتھ کی جانب رواں دواں تھا۔ طیارے میں دو ماہ کی شیرخوار سعودی بچی فرح بھی اپنے والدین کے ساتھ سوار تھی۔ دوران سفر بچی کو اچانک رونے کا دورہ پڑ گیا جس کے بعد وہ بلا توقف مسلسل روتی رہی۔اس کے بعد طیارے میں موجود چار ڈاکٹروں نے دو گھنٹے سے زیادہ دورانئے تک یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچی کو کس طرح اس حالت سے نجات دلائی جائے مگر وہ ناکام رہے اور ننھی فرح ایک خاتون مسافر کی گود میں دم توڑ گئی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ خاتون مسافر کا نام نادیہ ہے اور وہ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں مقیم ہے۔ نادیہ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا کہ بچی نے طیارے کے اڑان بھرنے کے ساتھ ہی رونا شروع کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

میں نے خود کو بچی کے والدین اور عملے کے ارکان کے سامنے مدد کیلئے پیش کیا۔ بچی کے والدین بہت تناؤ کا شکار نظر آ رہے تھے،میں نے بچی کو اپنی گود میں لیا اور سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کر دی۔

سورت کے اختتام پر میں نے محسوس کیا کہ ننھی فرح ڈھیلی پڑ رہی ہے اور پھر اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس لئے، جو کچھ ہوا وہ اب تک میری زندگی میں سب سے زیادہ رنجیدہ کرنے والا واقعہ ہے۔نادیہ نے مقامی اخبار کو بتایا کہ بچی کے رونے کے دوران نادیہ نے طیارے میں چلّا کر کسی بھی ڈاکٹر کی موجودگی کا پوچھا تو مسافروں میں سے 4 ڈاکٹر سامنے آ گئے۔ انہوں نے ڈھائی گھنٹے تک ننھی فرح کی مدد کی کوشش کی اور وہ سب کچھ کیا جو ان کے بس میں تھا۔ملائیشین فضائی کمپنی ائیرایشین کے ترجمان کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے پانچ بجے طیارہ پرتھ کے ہوائی اڈے پر پہنچا تو پولیس اہل کاروں اور ہوائی اڈے کے حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔