عافیہ صدیقی پاکستان نہیں آنا چاہتیں، ترجمان دفترِ خارجہ

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تو عافیہ صدیقی اور ڈاکٹرشکیل آفریدی پر بات ہو سکتی ہے، ڈاکٹر محمد فیصل

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل اپریل 22:40

عافیہ صدیقی پاکستان نہیں آنا چاہتیں، ترجمان دفترِ خارجہ
پشاور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23اپریل2019ء) ترجمان دفترِ خارجہ ڈاکٹر محمدفیصل نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عافیہ صدیقی پاکستان نہیں آنا چاہتیں ہیں۔ترجمان دفترِ خارجہ نے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی خود پاکستان نہیں آنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ اور ڈاکٹرشکیل آفریدی کے حوالے سے بات ہو سکتی ہے۔

اس انٹرویو کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے بتایا ہے کہ عافیہ صدیقی پاکستان آنا چاہتی ہیں اور ایک وقت تو ایسا لگتا تھا کہ وہ پاکستان آنے والی ہیں۔ انہوں نے عافیہ صدیقی کو جیل سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والی سائنسدان ہیں جنہیں مبینہ طور پر امریکی حکومت نے اغوا کر کے غیرقانونی طور پر قید میں رکھا ہوا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی (مارچ 1972 کو) کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 8 سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے وہ بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ طرزیات (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں علمائی (PhD) کی سند حاصل کی۔انہیں روالپنڈی سے مبینہ طور پر اغوا کر کے افغانستان منتقل کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں امریکہ منتقل کر کے عدالت کے سامنے پیش کر کے بتایا گیا کہ عافیہ صدیقی کو 17جولائی 2008 کو غزنی سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے ایک امریکی فوجی پر بندوق تان کر گولی چلا دی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ عافیہ صدیقی کے پاس سے بم بنانے کے لیے بنائے گئے خاکے اور فارمولے تحویل میں لیے گئے ہیں اور انکا تعلق القائدہ سے ہے۔ عدالے نے انہیں 86سال قید کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان عافیہ صدیقی کو رہا کروانے کی کوششیں کرتا رہا ہے تاہم اب ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ عافیہ صدیقی خود پاکستان نہیں آنا چاہتیں۔