شہباز شریف اور طاقتور حلقوں کے درمیان معاملات بگڑ گئے ہیں

حال ہی میں کوئی ایسی دراڑ آئی ہے جس سے شہباز شریف کے معاملات جو کافی حد تک طے لگتے تھے، بکھر کر رہ گئے ہیں، ہو سکتا ہے اِس دراڑ کا باعث صرف عمران خان ہوں مگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ کارنامہ صرف عمران خان اکیلے انجام نہیں دے سکتے، چھپے پردوں میں کوئی اور بھی ہے: سہیل وڑائچ

muhammad ali محمد علی منگل اپریل 23:14

شہباز شریف اور طاقتور حلقوں کے درمیان معاملات بگڑ گئے ہیں
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2019ء) سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور طاقتور حلقوں کے درمیان معاملات بگڑ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق معروف اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے متعلق بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کوئی ایسی دراڑ آئی ہے جس سے شہباز شریف کے معاملات جو کافی حد تک طے لگتے تھے، بکھر کر رہ گئے ہیں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں شہباز شریف اور طاقتور حلقوں کے درمیان آنے والی دراڑ وزیراعظم عمران خان بھی ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اِس دراڑ کا باعث صرف عمران خان ہوں مگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ کارنامہ صرف عمران خان اکیلے انجام نہیں دے سکتے، چھپے پردوں میں کوئی اور بھی ہے۔

(جاری ہے)

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسی لیے شہباز شریف تحریک انصاف کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

اس وقت پاکستان میں تحریک انصاف کی متبادل کوئی جماعت موجود نہیں ہے۔ پورے ملکی منظر نامے میں اِس وقت نہ تو کوئی متبادل سیاسی جماعت ہے اور نہ کوئی لیڈر، جو فوراً اقتدار سنبھال کر ملک کی کشتی کو آگے لے جا سکے۔ اگر وزیراعظم عمران خان ڈلیور کرنے میں ناکام ہوگئے، تو ایسے میں سسٹم کو ملک کا کافی نقصان ہوگا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سسٹم کی بہتری کیلئے وزیراعظم عمران خان کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے۔

عمران خان پڑھی لکھی مڈل کلاس اور کارپوریٹ کلاس کی امیدوں کا مرکز ہیں، اگر وہ کامیاب نہ ہوئے تو مڈل کلاس کا نئے پاکستان کا خواب چکنا چور ہو کر رہ جائے گا۔ کارپوریٹ کلاس جس جدید اور شفاف پاکستان کی تعمیر چاہتی تھی، وہ تعمیر نہ ہوا تو ان کا ملک ِپاکستان پر سے اعتبار اُٹھ جائے گا۔ دنیا بھر کی مڈل کلاس اپنی ترقی اور خوشحالی کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور پرانے برسرِ اقتدار طبقوں کی جگہ لینا چاہتی ہے، عمران خان کامیاب نہ ہوئے تو یہ اُبھرتی ہوئی مڈل کلاس ایک بار پھر سے لاتعلقی اور بیگانگی کا شکار ہو کر سیاست سے الگ ہو جائے گی۔