اماراتی خاتون 27 سال بعد کومے سے باہر آ گئی

یہ میڈیکل سائنس کی تاریخ میں واحد کیس ہے جب کوئی 27 سال بعد کومے سے نکل آیا ہو

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ اپریل 10:56

اماراتی خاتون 27 سال بعد کومے سے باہر آ گئی
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،24 اپریل 2019ء) یہ دُنیا اتفاقات و عجائبات سے بھری پڑی ہے، کئی ایسے واقعات رُونما ہوتے ہیں جن پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک حیرت انگیز واقعہ اماراتی خاتون منیرہ عبداللہ کے ساتھ رُونما ہوا۔ منیرہ عبداللہ 1991ء میں ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں کومے میں چلی گئی تھی۔ ڈاکٹر بھی اس کی خراب حالت پر جواب دے چکے تھے، تاہم گزشتہ روز اس خاتون نے ہوش میں آ کر میڈیکل سائنس کو چکرا کر رکھ دیا۔

اخبار الامارات یوم کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں خاتون کے بیٹے عمر احمد نے بتایا کہ اُن کی والدہ کومہ میں جانے سے پہلے خواتین کو تحفیظ قرآن کا اسلامی فریضہ انجام دیتی تھیں۔ 1991ء میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے جب العین کے قریب اُن کی گاڑی ایک بس سے ٹکرا گئی، جس کے باعث اُنہیں شدید چوٹیں آئیں اور وہ کومہ میں چلی گئیں۔

(جاری ہے)

اس وقت میری عمر صرف چار برس تھی،جبکہ دو چھوٹی بہنیں ڈیڑھ سال اور چار ماہ کی تھیں۔

اس حادثے ہم بہن بھائی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ جب والدہ کو اسپتال منتقل کیا گیا تو لوگ اُنہیں مردہ سمجھ کر اُن کے لیے مغفرت کی دُعا کرتے رہے ۔ گزشتہ 27 سالوں کے دوران ہم نے والدہ کا امارتی اسپتالوں کے علاوہ بیرون مُلک بھی علاج کروایا۔گزشتہ سال اُنہیں حکومت کی جانب سے جرمنی بھجوایا گیا۔ جہاں اُن کا ایک اسپتال میں علاج چلتا رہا۔ کومے کے دوران اُنہیں پائپ کے ذریعہ غذا فراہم کی جاتی رہی۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اُن کی دماغی طور پر موت واقع ہو چکی ہے۔ تاہم جرمنی میں علاج کے دوران اُن کی حالت میں سُدھار دکھائی دیتا رہا پھر بھی ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اُن کے ہوش میں آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور وہ ہم بہن بھائیوں کی اُمیدوں کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرتے تھے۔ ڈاکٹرز کہتے تھے کہ میڈیکل سائنس کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ تک کومہ میں رہنے والا شخص 16 سال بعد ہوش میں آیا تھا۔

جبکہ تمہاری والدہ کو 27 سال ہو گئے ہیں، ان کی اُمید چھوڑ دو۔ ایک روز اُنہیں اچانک مرگی کا دورہ پڑا۔ ڈاکٹرز نے ان کو انجکشن وغیرہ دیئے۔ اب تو ہم بالکل مایوس ہو چکے تھے کہ اچانک اُن کی آنکھ کھُل گئی اور اُنہوں نے میرا نام پُکارنا شروع کر دیا۔ 27 سال بعد میں نے امی کی آواز سُنی تو چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے اور میں اُن کے ہاتھ چُومتا رہا۔

میری خوشی بھری چیخیں سُن کر نرس اور ڈاکٹروں کی ٹیم بھی بھاگتی ہوئی وہاں آئی ، اور مجھے بے تحاشا مبارک باد دی۔ والدہ نے ہوش میں آتے ہی قرآنی آیات اور دُعاؤں کا وِرد شروع کر دیا۔ عمر نے بتایا کہ اس عرصہ کے دوران میری ایک بہن کی شادی ہو گئی ہے جبکہ دُوسری ڈاکٹر بن چکی ہے۔ جو کچھ ہوا اس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔