وزیراعظم عمران خان کا سری لنکن ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ

مشکل کی اس گھڑی میں ہم سری لنکا کے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی سری لنکا کو انسداد دہشت گردی میں تعاون کی پیشکش

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ اپریل 11:41

وزیراعظم عمران خان کا سری لنکن ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 اپریل 2019ء) :وزیراعظم عمران خان نے سری لنکن ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے ٹیلی فونک گفتگو میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام سری لنکا میں ہونے والی دہشت گردی پر افسردہ ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں ہم سری لنکا کے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے حملے میں زخمی افراد کی صحت یابی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم عمران خان نے ہلاک افراد کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کرتے رہیں گے۔اس سے قبل بھی عمران خان نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے اورسری لنکا میں موجود پاکستانیوں کی ہر ممکن کوشش کرنے کے لی تیار ہے۔

(جاری ہے)

دفترِ خارجہ نے بھی سریلنکا مین ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔یاد رہے کہ اتوار کی صبح سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے 3ہوٹلوں اور 3گرجا گھروں میں 6دھماکے ہوئے تھے۔ ۔ حملوں میں 359 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ گذشتہ روز سری لنکا حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دہشتگرد حملے کیے گئے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دہشتگرد حملوں کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد تنظیم داعش نے قبول کر لی تھی۔ اس سے قبل سری لنکا نے گرجا گھروں اور ہوٹلز میں ہونے والے ہولناک بم دھماکوں کے بعد بین الاقوامی نیٹ ورک پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ حملوں پر تحقیقات سے متعلق پولیس نے کہا کہ انہیں کولمبو بس اڈے سے 87 بم ڈیٹونیٹرز ملے ہیں،پولیس کو بستیان مواتھا نجی بس اسٹینڈ سے ڈیٹونیٹرز ملے جن میں سے 12 زمین پر اور 75 قریبی کچرے کے ڈھیر سے پائے گئے۔

پولیس نے بتایا کہ انہوں نے 24 افراد کو گرفتار کیا تھا اور تمام افراد سری لنکا کے شہری تھے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔تفتیش کاروں کے مطابق حملوں میں 7 خودکش بمباروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ حکومتی ترجمان نے کہا کہ حملوں میں ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث تھا۔