بحریہ ٹاؤن راولپنڈی و مری کے منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی پیشکش، سپریم کورٹ کا اداروں کو نوٹس

سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹسز پنجاب حکومت، محکمہ جنگلات اور قومی احتساب بیورو کو جاری کیے گئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ اپریل 12:01

بحریہ ٹاؤن راولپنڈی و مری کے منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی پیشکش، سپریم ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 اپریل 2019ء) : بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور مری کے منصوبے کے لیے 50 ارب روپے کی پیشکش کرنے پر سپریم کورٹ نے اداروں کو نوٹسز جاری کر دئے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں بینچ نے بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی اور مری سے متعلق عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی اور بتایا کہ ان کے مؤکل کو سکیورٹی خدشات ہیں۔

بحریہ ٹاﺅن کراچی کے کیس میں 460 ارب روپے کی بھاری رقم ادا کرنی ہے۔ یہ خبر عام ہونے پر علی ریاض ملک کو شدید سکیورٹی خدشات ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ علی ریاض ملک کو بیان حلفی دبئی یا لندن سفارتخانے میں دینے کی اجازت دی جائے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ عدالت کو سکیورٹی خدشات پر باضابطہ درخواست بھی دی جائے گی۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ جب آپ کی درخواست آئے گی تب جائزہ لیں گے، ساتھ ہی عدالت نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنیٰ دینے کی استدعا مسترد کردی۔

دوران سماعت بحریہ ٹاﺅن کی جانب سے کراچی کے منصوبے میں ضمانت کے طور پر دی گئی ملک ریاض اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں کو تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی جس پر عدالت نے ضمانت میں تبدیلی کی ہدایت کردی اور آئندہ ہفتے تمام ڈائریکٹرز کو ضمانت کے ہمراہ رجسٹرار آفس میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ فیصلے پر صرف عملدرآمد کروانا ہے دلائل نہیں سنیں گے۔

اس پر وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ میڈیا ٹاﺅن، پاکستان ٹاﺅن، جوڈیشل ٹاﺅن سمیت کئی منصوبے جنگلات کی زمین پر ہیں۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایک نام آپ لینا بھول گئے ہیں، ڈی ایچ اے کا نام کیوں نہیں لیتے؟ اس پر وکیل بحریہ ٹاﺅن طارق رحیم نے کہا کہ ڈی ایچ اے شاملات کی زمین پر ہے۔ بعد ازاں عدالت نے جنگلات کی زمین پر قبضے سے متعلق پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ جس نے بھی قبضہ کیا ہوا اس سے نمٹ لیں گے۔

اس موقع پر عدالت نے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی، کمشنر راولپنڈی کو بھی نوٹس جاری کردیا اور آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ حکام کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 21 مارچ کو عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کی زمین کی مد میں 460 ارب روپے کی پیش کش قبول کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا تھا۔ اس کے ساتھ بحریہ ٹاؤن نے راولپنڈی کی 5 ہزار 4 سو 72 کینال کی زمین کی مد میں 22 ارب مانگا مری کے منصوبے کی 4 ہزار 5 سو 42 کینال زمین کے عوض 23 ارب روپے کی پیش کش کی تھی۔ جس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے تمام فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔