قبائلی باشندوں کی قربانیوں سے پوری طرح باخبر ہوں ، ہماری اولین ترجیح

قبائلی اضلاع کو اوپر اٹھانا اور یہاں کے عوام کی تکالیف دور کرنا ہے ، اسی مقصد کیلئے تمام صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ کے اپنے حصے سے قبائلی اضلاع کیلئے تین فیصد حصہ مختص کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ، قبائلی اضلاع میں شعبہ جاتی ترقی کیلئے اگلے دس سال تک سالانہ 100 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی اضلاع کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرے گی ‘ بے روزگار نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرے گی خیبر پختونخوا میںضم شدہ اضلاع کے ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ فراہم کیاجائیگا، این آراو دونگا نہ بلیک میل ہونگا ‘ چوروں اور لٹیروں کا احتساب کرنے آیا ہوں اور احتساب کرکے رہونگا وزیراعظم عمران خان کا وانا ( جنوبی وزیرستان ) میںجلسہ عام سے خطاب

بدھ اپریل 18:49

قبائلی باشندوں کی قربانیوں سے پوری طرح باخبر ہوں ، ہماری اولین ترجیح
وانا/پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اپریل2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ قبائلی باشندوں کی قربانیوں سے پوری طرح باخبر ہوں ، ہماری اولین ترجیح قبائلی اضلاع کو اوپر اٹھانا اور یہاں کے عوام کی تکالیف دور کرنا ہے ، اسی مقصد کیلئے تمام صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ کے اپنے حصے سے قبائلی اضلاع کیلئے تین فیصد حصہ مختص کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ، قبائلی اضلاع میں شعبہ جاتی ترقی کیلئے اگلے دس سال تک سالانہ 100 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی اضلاع کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرے گی ‘ بے روزگار نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرے گی خیبر پختونخوا میںضم شدہ اضلاع کے ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ فراہم کیاجائیگا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے بدھ کے روز وانا ( جنوبی وزیرستان ) میںجلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ این آراو دونگا نہ بلیک میل ہونگا ‘ چوروں اور لٹیروں کا احتساب کرنے آیا ہوں اور احتساب کرکے رہونگا ۔ نہ میں بلاول ’’ صاحبہ ‘‘ کی طرح پرچی پر سیاست میں آیا ہوں نہ مجھے جائیداد میں پارٹی ملی ہے اور نہ کسی جنرل جیلانی نے مجھے کرسی پر بٹھایا ہے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سیاسی جدوجہد کی ہے اور اسی جدو جہد کا نتیجہ ہے کہ عوام نے مجھے اپنا وزیر اعظم منتخب کیا ہے، انھوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ ملک سے لوٹی گئی دولت واپس لائی جائے اسی کام کے لیے انھوں نے مجھے مینڈیٹ دیا ہے اور میں یہ کام کر کے رہوں گا۔

انہوں نے کہاکہ فضل الرحمان کی مثال 12ویں کھلاڑی کی سی ہے ،اس کی قیمت ایک کشمیر کمیٹی کی چیئر مین شپ اور ڈیزل کے پرمٹ سے زیادہ نہیں ہے ، وزیر اعظم نے کہاکہ اس وقت ملک تاریخ کے مشکل ترین معاشی مرحلے سے گزر رہاہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمیں اوسطا،ًًْہر دن کے حساب سے قرضوں پر صرف سود کی مد میں ساڑھے چھ ارب روپے ادا کرنے پڑرہے ہیں اور یہ صورتحال پی پی پی اور ن لیگ کے ادوارحکومت کی دین ہے جنہوں نے ملک کا قرضہ چھ ہزار ارب روپے سی30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا تاہم یہ صورتحال چند مہینے میں بہتر ہوجائیگی اور ہم ملک کو معاشی ترقی کی طرف لے کر جائیں گے، عمران خان نے اپنے خطاب میں قبائلی عوام کی قربانیوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وہ واحد سیاست دان ہیں جو قبائلی باشندوں کی قربانیوں اور ان کے حالات زندگی سے پوری طرح باخبر ہیں اسی لئے ان کی اولین ترجیح قبائلی اضلاع کو اوپر اٹھانا اور یہاں کے عوام کی تکالیف کا ازالہ کرنا ہے ، انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کیلئے تمام صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ کے اپنے حصے سے قبائلی اضلاع کیلئے تین فیصد حصہ مختص کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور قبائلی اضلاع میں شعبہ جاتی ترقی کیلئے اگلے دس سال تک سالانہ 100 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، انہوں نے کہاکہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی اضلاع کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرے گی ‘ بے روزگار نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرے گی اور ہر وہ قدم اٹھائے گی جو قبائلی باشندوں کی فلا ح و بہبود ‘ بحالی اور ترقی کیلئے ضروری ہے ۔

انہوںنے کہاکہ نوجوان آبادی کیلئے تعلیمی سہولیات میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدانوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائیگا تاکہ یہاںموجود ٹیلنٹ کو ملکی سطح پر متعارف کیا جاسکے ۔ انہوں نے قبائلی عوام سے کہا کہ وہ قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے راستے میں مشکلات کھڑی کرنے والے عناصر کی سازشوں سے ہوشیار رہیں کچھ عناصر بیرونی سرمائے کے زور پر اور کچھ دیگر مفادات کیلئے قبائلی اضلاع میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں انکی سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا، انھوں نے کہا کہ وانا کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی موجودگی یقینی بنائی جائے گی اور یہاں قبائلی روایات کے مطابق مستقبل کی قانون سازی کی جا ئے گی ۔

انہوں نے کہاکہ وانا میں طلباء اور طالبات کیلئے دو ڈگری کالج بنائے جائیںگے ‘ ضم شدہ اضلاع کے ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ فراہم کیاجائیگا جس کے تحت 7 لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ تک کا علاج کیا جاسکے گا ‘ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور سرجنوں کی کمی کو پورا کیا جائے گا تاکہ یہاںکے باشندوں کو علاج معالجے کیلئے دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کے مسائل کے حل کیلئے گرڈ سٹیشن بنایا جائی گا جبکہ دور درازکے علاقوں کو بجلی کی فراہمی کیلئے شمسی توانائی بنانے کے یونٹ بھی لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پانی کے مسئلے کے حل کیلئے یہاں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم بھی بنائے جائیںگے ۔