پاکستا ن اور فرانس کے ما بین خوشگوار دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک اہم علاقائی و عالمی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی فرانس کے پارلیما نی وفد سے گفتگو

بدھ اپریل 23:04

پاکستا ن اور فرانس کے ما بین خوشگوار دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اپریل2019ء) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستا ن اور فرانس کے ما بین خوشگوار دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک اہم علاقائی و عالمی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں، پاکستان فرانس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور پارلیمانی و اقتصادی رابطوں کو فروغ دے کر موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا چاہتا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار فرانس کے پارلیما نی وفد سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا جس نے فرانس میں پاک۔ فرانس فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین سینیٹر الیزارڈ پاسکل کی سربراہی میں بدھ کے روز پارلیمنٹ ہائوس میں سپیکر سے ملاقات کی۔ سپیکر نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے پا رلیمانی فر ینڈشپ گروپس کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا بھرکی پارلیمانوں کے ساتھ تعاون اور رابطوں کو فروغ دے کر دنیا کو درپیش چیلینجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں فرانس سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے فرینڈشپ گروپس کو مستحکم بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے تجارت اور دیگر سماجی و اقتصادی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دے کر پاک۔فرانس بزنس الائنس کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صنعت، توانائی، زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وافر مواقع موجود ہیں جن سے فرانسیسی سرمایہ کار مستیفد ہو سکتے ہیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ دنیا کو اس وقت دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے ناسور کا سامنا ہے جو دنیا کے امن اور استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہیں جس پر قابو پانے کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ قریبی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا شکار ہے اور فرانس میں ہونے والے دہشتگردی کے وا قعات کا درد بخوبی سمجھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) پر عمل درآمد کے لیے کو شاں ہے اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایس ڈی جی سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مو سمیاتی تبدیلیاں اس وقت دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی پارلیمنٹ کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے وومن پارلیمنٹری کاکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کی پارلیمنٹ میں خواتین اراکین پارلیمنٹ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو قانون سازی اور ایوان کی کارروائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

چیئرمین فرانس۔پا ک فرینڈ شپ گروپ الیزارڈ پاسکل نے سپیکر کی دنیا کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے بین الاپارلیمانی تعاون کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ فرانس پاکستان میں جمہوریت کے فروغ اور جمہوری اداروں کے استحکام میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہو ں نے خطے سے دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پا کستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فرانس اور پاکستان کے مابین قریبی تعاون خطے اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے اور فرینڈشپ گروپس کا کردار دونوں ممالک کی پارلیمانوں کو قریب لانے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

سربراہ فرانسیسی وفد نے تعلیم، توانائی، زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی سپیکر کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ ملاقات میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خارجہ امور عندلیب عباس اور پاک۔فرانس فرینڈ شپ گروپ کے کنوینئر امجد خان نیازی بھی موجود تھے۔