اورماڑہ میں آئے دہشت گرد 60روپے لٹر والے ہیلی کاپٹر پر آئے تھے کیا؟

اختر جان مینگل کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر اسمبلی اجلا س میں خوب تنقید

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات اپریل 06:25

اورماڑہ میں آئے دہشت گرد 60روپے لٹر والے ہیلی کاپٹر پر آئے تھے کیا؟
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2019ء) قومی اسمبلی کے گزشتہ روز اجلاس میں بلوچستان پارٹی مینگل کے راہنما سردار اختر جان مینگل نے حکومت اور خاص کر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے اورماڑہ میں پیش آئے دلخراش واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس لرزہ خیز واقعہ پر ہر شخص کی آنکھ اشکبار ہے۔

مگر یہ تشویش کا مرحلہ بھی ہے کہ وہاں خاص طور پر شناخت کرنے کے بعد ہی ملٹری اور ایئر فورس کے جوانوں سمیت 14لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مگر مجھے حیرانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان پر ہوئی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد ایران سے آئے تھے اور آئے بھی پیدل تھے۔مگر شاید قریشی صاحب کو جغرافیہ کازیادہ علم نہیں ہے کیونکہ اورماڑہ میں جس جگہ یہ وقعہ پیش آیا وہاں سے ایران کا بارڈڑ 450کلومیٹر دور ہے اور اس درمیان میں پچاس کے قریب لیویز،پولیس،ایف آئی اے اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹس ہیں تو وہ دو درجن کے قریب دہشت گرد اورماڑہ آنے اور کارروئی کرنے کے بعد واپس کیسے چلے گئے؟ان کا کہنا تھا کہ بتایا جا رہا ہے کہ ان دہشت گردوں کی تعداد 20کے قریب تھی اور انہوں نے مین کوسٹل ہائی وے پر تین چار بسوں کو روک کر ہر بس میں سے شناخت کے بعد لوگ باہر نکالے اور انہیں علیحدہ کرنے کے بعد گولی مار دی۔

(جاری ہے)

اتنے لوگوں کی شناخت اور انہیںبس سے اتارنے میں کم سے اکم ایک بس پر بھی 20منٹ تو لگے ہوں گے تو کوئی یہ ڈیڑ دو گھنٹے کی واردات وہ بھی مین کوسٹل ہائی وے پر ہماری سیکیورٹی فورسز پر سوالیہ نشان تو اٹھاتی ہی ہے مگر ساتھ میں وزیر خارجہ کی معلومات پر بھی۔کیونکہ اس کوسٹل ہوئی وے کے علاوہ وہاں کوئی اور سڑک ہی نہیں ہے کہ جہاں سے وہ دہشت گرد اورماڑہ تک آتے اور وہاں سے واپس جاتے۔

اب وزیر خارجہ نے فوری الزام ایران پر لگایا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات خراب کر لیں گے۔اختر جان مینگل کا کہنا تھا کہ ہمارے کسی بھی ہمسائیہ ملک کے ساتھ ریلیشن اچھے نہیں ہیں،ہندوستان کے ساتھ نہ اچھے تعلقات تھے نہ ہیں اور نہ ہی کبھی آئندہ ہونے کے چانس ہیں۔افغانستان کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔اب آ جا کے ایران رہ گیا تھااور اگر اس پر بھی ہم الزام لگائیں گے تو جائیں گے کہاں؟صرف ایک ہمسایہ سمندر ہی رہ جاتا ہے کہ جو ہمیں کچھ نہیں کہتا۔

کیا پتا کسی دن سمندر میں بھی سونامی آئے اور ہمیں کہیں بہا لے جائے۔انہوں نے حکومتی وزرا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد آئے اور چلے گئے آج اسمبلی میں چوہدری فواد صاحب نہیں ہیں وگرنہ ان سے ہم پوچھتے کہ کہیں دشت گرد 60روپے لیٹر والے ہیلی کاپٹر پر تو نہیں آئے تھے؟