اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومتی وزیر کو کون سا اشارہ کیا کہ خورشید شاہ بھڑک اٹھے

پی ٹی آئی ہم سے مقابلہ نہیں کر سکتی،کہاں راجہ بھوج،کہاںگنگو تیلی،خورشید شاہ

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات اپریل 06:58

اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومتی وزیر کو کون سا اشارہ کیا کہ خورشید شاہ ..
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2019ء) قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورت حال دیکھنے کوملی جب پیپلز پارٹی کے راہنما نے اپنی گفتگو کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو دبوچ لیا۔خورشید شاہ نے اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ادھر کیا اشارے کر رہے ہیں میرے ساتھ براہ راست بات کریں۔اسد قیصر نے جواب دیا کہ میں کوئی اشارہ نہیں کر رہا تھا آپ بات کریں۔

اس پر خورشید شاہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے اشارے اس قدر خطرناک تھے کہ مجھے متوجہ ہونا پڑا۔اگر میری گفتگو پسند نہیں ہے تو ایوان میں موجود لوگ اس پر احتجاج کریں یا آپ مجھے کہہ دیں تو میں بیٹھ جاتا ہوں وگرنہ میں تو عوام اور ملک کی باتیں کر رہا ہوں کسی پر تنقید تو کر نہیں رہا۔

(جاری ہے)

آخر ایسی تو کوئی اہم بات تھی جو آپ نے انہیں میری گفتگو کے درمیان اشاروں سے کہنا ضروری سمجھی۔

اس پر اسد قیصر جھینپ گئے اور کہا کہ مجھے کسی کام سے کہیں جاناہے تو میں چاہ رہا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر کو بلا لیا جائے اور ایوان کی کارروائی لمبی دیر تک چلے۔خورشید شاہ نے گفتگو کو مکالمے کا روپ دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے آپ چلے جائیے گا مگر مجھے میری گفتگو تو مکمل کر لینے دیں آپ نے حکومتی وزیر کو اشارہ کر کے اپنے جانبدار ہونے کا اشارہ کیا ہے۔

آپ کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور ہر کسی کو بولنے کا موقع دینا چاہیے۔اس پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ آپ بولیں میں آپ کو سن رہا ہوں آپ بھی بول لیں بعد میں وہ بھی بول لیں گے تو اس پر خورشید شاہ نے کہا کہ میں ان کے مقابلے میں کیا بولوں پی ٹی آئی ہمارا کیا مقابلہ کرے گی، ہم اجالے ہیں یہ اندھیرے ہیں”کہاں راجہ بھوج،کہاں گنگو تیلی“۔

خورشید شاہ کے اس بیان پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے اور اسد قیصر نے انہیں گفتگو جاری رکھنا کا کہا تو خورشید شاہ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میری گفتگو آپ کی موجود میں ہو اور آپ کہیں مت جائیں۔اسد قیصر نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا کہ مجھے کہیں جانا ہے تو آپ براہِ مہربانی اپنی گفتگو جلدی مکمل کریں۔خورشید شاہ نے استفسار کیا کہ آپ نے اتنا جلدی کہاں جانا ہے اس پر اسد قیصر نے کہا کہ مجھے واش روم بھی جانا ہے ایک تو یہ بڑی ایمرجنسی ہے۔اس پر ایوان میں قہقہے بلند ہو گئے۔