امریکی افواج نے طالبان کی نسبت عام لوگوں کا زیادہ قتل کیا

افغانستان میں امریکہ کی طویل جنگ کا زیادہ نقصان بھی امریکہ کوہی اٹھانا پڑا

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات اپریل 07:21

امریکی افواج نے طالبان کی نسبت عام لوگوں کا زیادہ قتل کیا
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2019ء)   وہ دن دور نہیں جب افغانستان سے امریکی افواج ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔قطر کے شہر دوحا میں پاکستان کی مدد سے امریکی حکام طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔جس میں افغانستان کو ان کی عوام اور طالبان کے حوالے کر دیاجائے گااور امریکی اپنا بوریا بستر گول کر کے وہاں سے کوچ کر جائیںگے۔

مگر ابھی شاید اس پراسز کو مکمل ہونے میں کچھ وقت لگے تاہم اس سے قبل ہی امریکی ایجنسیوں کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی افواج نے جب افغانستان پر قبضہ کیاتو انہوںنے طالبا ن کو کم مارا جبکہ ان کے بجائے عام عوام کو زیادہ قتل کیا گیا۔رپورٹ میں یہ بات بھی تسلیم کی گئی کی افغان خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کا استحصال بھی کیا گیا۔

(جاری ہے)

امریکی افواج کا زیادہ تر اسلحہ عام عوام کو ختم کرنے اور ان کے گھر مسمار کرنے میں جھونک دیا گیا۔آفیشلز کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والی امریکی فوجیوں کی طرف سے ہلاکتوں میں53فیصد عام لوگ تھے جو کہ نہ طالبان تھے اور نہ ہی انہوں نے امریکی فورسز کوکسی قسم کانقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔آج ایک دہائی بعد جب امریکہ اپنی ہار مان کر افغانستان سے نکل رہا ہے تو اسے اس شکست کے پیچھے کی گئی اپنی زیادتیاں بھی نظر آنے لگ گئی ہیں کہ انہوں نے ناجائز طور پر ہزاروں بے گناہوں سے ان کی زندگی چھین لی ۔

صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ عراق میں بھی خود ساختہ جنگ چھیڑنے کو امریکی حکام اپنی سنگین غلطی او ر ناکامی قرار دے چکے ہیں۔تاہم اب افغانستان میں امریکہ کی جنگ سے متعلق بھی رپورٹ میں یہی کہا گیا کہ اس جنگ میں عام لوگوں کا قتل امریکی فورسز نے زیادہ کیا ہے۔