عمران خان بے نظیر بھٹو والی غلطی کو دوہرا رہے ہیں

عمران خان کی غلطی سے بلاول بھٹو کو کیا فائدہ ہو گا؟ معروف صحافی نے بتا دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات اپریل 11:09

عمران خان بے نظیر بھٹو والی غلطی کو دوہرا رہے ہیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 اپریل 2019ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا کہ خان صاحب آج کل جب تقریر کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے حامی خوفزدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ خان صاحب کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب کچھ کہہ دیں۔ کئی لوگوں کی تو یہ حالت ہوتی ہے جیسے وہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ رہے ہوں کہ مہربانی کر کے آج کچھ مت کہیے گا ہم پہلے ہی آپ کے ایران میں دئے گئے بیان کا دفاع کر رہے ہیں ، عمران خان بھی ایسے ہیں کہ ان لوگوں کو مایوس نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک وہ بینادی غلطی کر رہے ہیں جو بے نظیر بھٹو نے کی تھی ، بھٹو نے بھی اپنے مخالفین کے خلاف ایسی زبان استعمال کی تھی جیسے آج عمران خان کرتے ہیں لیکن نواز شریف کو اس بات کر کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے حکومت میں کم اور اپوزیشن میں رہ کر زیادہ ایسی زبان استعمال کی۔

(جاری ہے)

حکومت میں رہتے ہوئے وزیراعظم کے طور پر انہوں نے کبھی نازیبا زبان استعمال نہیں کی۔

عمران خان ہو بہو بے نظیر بھٹو والی غلطی کر رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو جب 1988ء میں وزیراعظم بنیں تو وہ نواز شریف کے خلاف بھی ایسی ہی باتیں کرتی تھیں۔ بے نظیر بھٹو کی انہی باتوں نے نواز شریف کو لیڈر بنا دیا تھا حالانکہ نواز شریف میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ لیڈر بنتے۔ بے نظیر بھٹو نے مسلسل نواز شریف کے خلاف بیان بازی کر کے نواز شریف کو ملک کا وزیراعظم بنا دیا۔

عمران خان نے بھی خود کو بلاول بھٹو کے ساتھ انگیج کر کے یہی کام کیا ہے۔ لیکن افسوس کہ عمران خان کے دوست اور مشیر ان کو اس بارے میں کوئی ایڈوائس نہیں دے رہے۔ عمران خان کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ بلاول ان کو اپنے لیول پر لانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ جیسے بے نظیر نے نواز شریف کو لیڈر بنا دیا ایسے ہی عمران خان بھی بلاول بھٹو کو لیڈر بنا رہے ہیں۔ اسد عمر اور مراد سعید نے بلاول کو جواب دے دیا تھا تو پھر وزیراعظم کا جواب دینا نہیں بنتا تھا، اگر وزیراعظم اس بارے میں بات کر رہے ہیں اور بلاول کو جواب دے رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان پر سوار ہے۔