عمران خان کو برسراقتدار لانے والی قوتوں نے اپنے فیصلے پر غور شروع کر دیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے عمران خان پر الزامات عائد کرتے ہوئے اہم دعویٰ کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات اپریل 14:44

عمران خان کو برسراقتدار لانے والی قوتوں نے اپنے فیصلے پر غور شروع کر ..
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 اپریل 2019ء) : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو برسراقتدار لانے والای قوتوں نے اپنے فیصلے پر غور شروع کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مصطفی نواز کھوکھر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کوئی سمت نظر نہ آنے کے باعث نا صرف عوام بلکہ پاکستان تحریک انصاف کی اپنی ٹیم اور وہ لوگ جو عمران خان کو اقتدار میں لائے کافی مایوسی اور تذبذب کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زیر اعظم اور شیخ رشید میں اب کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے ایک اجتماع میں بلاول بھٹو زرداری کو زرداری کو مخاطب کرکے جو بات کہی ہے ان میں اگر جرات ہے تو پارلیمنٹمیں بھی آکر ایسی بات کرکے دکھائیں،عمران خان بزدل ہے ، وزیر اعظم عوامی مسائل پر بات کر یں کہ انکی حکومت نے آٹھ ماہ میں مزدوروں اور محنت کشوں کا کیا حال کردیا ہے ،حکومت کی نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے اشیائ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہے ،آئی ایم ایف کی تباہ کن شرائط تسلیم کی جارہی ہیں جنہیں عوام سے خفیہ رکھا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے کیا شرائط طے ہوئی ہیں اسے پارلیمنٹ میں لایا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے ،وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں باقاعدگی سےپارلیمنٹ ہا?س آکر عوام کے سوالات کی جوابدہی کرونگا لیکن انہوں نے مسلسل رائہ فرار اختیار کررکھی ہے۔وزیر اعظم بتائیں کہ حفیظ شیخ سے انکی پہلی ملاقات کب ہوئی تھی اوربریگیڈیر اعجاز شاہ کے ہوتے ہوئے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان اپنا مقدمہ لڑپائے گا ،ان پر سنگین الزامات عائد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشاور بی آر ٹی منصوبہ میں سات ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے یہ الزام ہم نے نہیں بلکہ انکے وزیر اعلی کی قائم کردہ اپنی ٹیم نے لگایا ہے جب ہم اس معاملے پر نیب کے پاس گئے تو نیب اس عجب کرپشن کی غضب کہانی پر ٹس سے مس نہ ہوا۔ نو ماہ میں پنجا ب کے تین آجیز کا تبادلہ کیا گیا جبکہ اسلام آباد کے آئی جی کو ایک وزیر کاٹیلی فون نہ سننے پر ہٹایا گیا۔