اگر ون یونٹ یا صدارتی نظام نافذ کر نے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹے گا ،بلاول بھٹو زر داری

ہماری جماعت حکومت کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوئی ہے ،اٹھارہویں ترمیم اور جمہوری نظام کو چھیڑنے نہیں دیں گے،اذئی ایم ایف سے معاہدے کو اسمبلی سے منظور نہ کرایا تو وہ غیر قانونی و غیر آئینی ہوگا، مہنگائی کی وجہ سے پاکستانیوں کی زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے، ایمنسٹی اور ریلیف امیر ترین لوگوں کیلئے ہے، کیا غریب عوام کو ریلیف مل سکتا ہی کیسی حکومت ہے جو کہتی ہے مہنگائی ایشو نہیں، حکمران عوام کا خیال رکھیں ورنہ ری ایکشن آئے گا،بجٹ میں ریلیف نہ ہوا تو عوام خود نکلیں گے، وزیراعظم کہہ رہے ہیں عورت ہونا ایک گالی ہیے، آپ مدینہ کی ریاست کی باتیں کرتے ہیں ،اگر اسلام میں عورتوں کا کردار نہ ہوتا تو کیا ہمیں کربلا یاد ہوتا اگر آپ اب وزیر اعظم بن ہی گئے ہیں تو کرسی کا احترام کریں اور اپنا کام کریں،شاہ محمود اپنے وزیراعظم کو ایسے اکیلا نہ چھوڑیں،جب سلیکٹڈ نالائق اور نااہل کو ملک پر مسلط کردیا ہے تو سینئر وزیر اور مشیر وزیراعظم کو کنٹرول کریں، سلیکٹ کر نے والوں سے پوچھتا ہوں کیا آپ کو تبدیلی پسند آئی ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے بات چیت

جمعرات اپریل 16:29

اگر ون یونٹ یا صدارتی نظام نافذ کر نے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹے گا ،بلاول ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے خبر دار کیا ہے کہ اگر ون یونٹ یا صدارتی نظام نافذ کر نے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹے گا ،ہماری جماعت حکومت کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوئی ہے ،اٹھارہویں ترمیم اور جمہوری نظام کو چھیڑنے نہیں دیں گے،اذئی ایم ایف سے معاہدے کو اسمبلی سے منظور نہ کرایا تو وہ غیر قانونی و غیر آئینی ہوگا، مہنگائی کی وجہ سے پاکستانیوں کی زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے، ایمنسٹی اور ریلیف امیر ترین لوگوں کیلئے ہے، کیا غریب عوام کو ریلیف مل سکتا ہی کیسی حکومت ہے جو کہتی ہے مہنگائی ایشو نہیں، حکمران عوام کا خیال رکھیں ورنہ ری ایکشن آئے گا،بجٹ میں ریلیف نہ ہوا تو عوام خود نکلیں گے، وزیراعظم کہہ رہے ہیں عورت ہونا ایک گالی ہیے، آپ مدینہ کی ریاست کی باتیں کرتے ہیں ،اگر اسلام میں عورتوں کا کردار نہ ہوتا تو کیا ہمیں کربلا یاد ہوتا اگر آپ اب وزیر اعظم بن ہی گئے ہیں تو کرسی کا احترام کریں اور اپنا کام کریں،شاہ محمود اپنے وزیراعظم کو ایسے اکیلا نہ چھوڑیں،جب سلیکٹڈ نالائق اور نااہل کو ملک پر مسلط کردیا ہے تو سینئر وزیر اور مشیر وزیراعظم کو کنٹرول کریں، سلیکٹ کر نے والوں سے پوچھتا ہوں کیا آپ کو تبدیلی پسند آئی ۔

(جاری ہے)

جمعرات کو یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹوزر داری نے کہاکہ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں، مہنگائی کی وجہ سے پاکستانیوں کی زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے، یہ کیسی حکومت ہے جس کا وزیرخزانہ کہتاہے ہماری پالیسیوں سے عوام کی چیخیں نکلیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اور ریلیف امیر ترین لوگوں کیلئے ہے، کیا غریب عوام کو ریلیف مل سکتا ہی کیسی حکومت ہے جو کہتی ہے مہنگائی ایشو نہیں، یہ ظالم حکمران ہیں ان کے دل میں غریب کیلئے کوئی درد نہیں، اب یہ لوگ کٹوتی پر سوچ رہے ہیں ،سبسڈیز ختم کریں گے تاکہ امیروں کو ریلیف پہنچادیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کا خیال رکھیں ورنہ ری ایکشن آئے گا، اس بجٹ میں ریلیف نہ ہوا تو عوام خود نکلیں گے۔ انہوںنے کہاکہ عوام ایک حد تک برداشت کرسکتے ہیں، آپ عوام پر جو بوجھ ڈالنے والے ہیں ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ آپ کہتے تھے آئی ایم ایف سے ڈیل لینے سے پہلے خود کشی کرلوں گا لیکن آپ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اعتماد میں نہیں لیا۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہتے آرہے ہیں کہ ہماری جماعت حکومت کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوئی ہے اور وہ اٹھارہویں ترمیم اور جمہوری نظام کو چھیڑنے نہیں دیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پہلے بھی ون یونٹ کو قبول نہیں کیا تھا اور آج بھی نہیں کریں گے، کیونکہ ماضی کی آمرانہ سوچ کی وجہ سے ملک دولخت ہوا تھا، تاہم اگر آج بھی ون یونٹ یا صدارتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے خلاف ’صاحبہ‘ کے لفظ پر سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ اس قسم کا بیان دینے سے آپ اپنا قد چھوٹا کرتے ہیں، کسی اور کا قد چھوٹا نہیں ہوا، یہ کہنے سے مردوں کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تاہم یہ پاکستان کی بیٹیوں، بچیوں اور عورتوں کے کیا پیغام ہے، وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ عورت ہونا ایک گالی ہے، یہ انتہائی قدم ہے، آپ مدینہ کی ریاست کی باتیں کرتے ہیں اگر اسلام میں عورتوں کا کردار نہ ہوتا تو کیا ہمیں کربلا یاد ہوتا، یہاں ہماری خواتین مردوں کے شانہ بشانہ تھیں، اگر فاطمہ جناح نہ ہوتیں تو کیا پاکستان بنتا، اگر وہ نہ ہوتیں تو کون ایوب خان کے سامنے دیوار کی طرح کھڑا ہوتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے پوری اسلامی دنیا میں سب سے پہلے خاتون کو وزیراعظم بنایا، ہماری ملالہ جیسی بچیاں ہیں، پاکستان کی عورتیں بہادر ہیں، پاکستان کی عورتوں کا باقی دنیا کی عورتوں سے موازنہ کریں، ہم اپنے ملک کی خواتین پر فخر کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں ملک کی خواتین کو سیاست، معیشت اور معاشرے میں جگہ دینی چاہیے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے وزیراعظم کیلئے مذکر کی بجائے مؤنث کا استعمال کیا اور کہا کہ اگر عمران خان ’سمجھتی‘ ہیں اس قسم کا بیان دے کر وہ کسی کی تضحیک کررہے ہیں توہ اپنے آپ کی تضحیک کررہے ہیں، ہم سب جانتے ہیں وہ کیسے وزیراعظم بنے، اب اگر بن ہی گئے ہیں تو اس کرسی کا احترام کریں اور اپنا کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ سلپ آف ٹنگ جتنا اس وزیراعظم سے ہوتا ہے یہ اسپیڈ لائٹ سے زیادہ ہے، اگر انہیں کچھ نہیں پتا تو بات نہ کریں، اگر اچھی بات نہیں کرنا تو بات نہ کریں۔ انہوںنے کہاکہ شاہ محمود قریشی سے اپیل کرتا ہوں اپنے وزیراعظم کو کسی ملک میں اکیلا نہ چھوڑیں تاکہ ان کی سلپ آف ٹنگ نہ ہو اور پورا ملک شرمندہ نہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے وزیراعظم نے جرمنی جاپان کو ہمسایہ قرار دیا،یہ کس قسم کی باتیں کررہے ہیں، وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران سے پاکستان میں حملے ہوتے ہیں لیکن وزیراعظم ایران جاکر کہتے ہیں کہ حملے پاکستان سے ایران پر ہوتے ہیں، جب سلیکٹڈ نالائق اور نااہل کو ملک پر مسلط کردیا ہے تو سینئر وزیر اور مشیر وزیراعظم کو کنٹرول کریں۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جنہوں نے سلیکٹ کیا اور جو سلیکٹڈ ہیں ان سے کہتا ہوں، جو سلیکٹڈ ہیں ان سے کہوں گا کہ امپائر کی انگلی پسند آئی جنہوں نے سلیکٹ کیا ان سے سوال کرتا ہوں کہ کیا آپ کو تبدیلی پسند آئی۔ انہوںنے کہاکہ بے انکم سپورٹ پروگرام کا صرف نام نہیں تبدیل کیا جا رہا،یہ حکومت پروگرام ہی بند کرنا چاہتی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ میرے ایک ٹوئٹ سے انکی نیند اڑ جاتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ سیاست میں وقت اور حکمت عملی اہم ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی حکومت کو ٹف ٹائم دے گی ۔ ایک سوا ل پرانہوںنے کہاکہ اسد عمر کی تقریر پیپلز پارٹی کے خلاف نہیں اپنے نئے مشیر خزانہ کے خلاف تھی۔انہوںنے کہاکہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا مگر الٹا لوگوں کو بیروزگار کیا،50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا الٹا گھر گرائے ۔

انہوںنے کہاکہ جو صحافی انکے خلاف بولتا ہے اسے برداشت نہیں کرتے ،کوئی ٹوئٹ ان سے برداشت نہیں ہوتا،ہم نے اس قسم کی آمریت پہلے دیکھی تھی ۔ انہوںنے ایک بار پھر وزیر اعظم پر تنقید کریت ہوئے کہاکہ اگر آپ نے کچھ اچھی بات نہیں کرنی تو بات نہ کریں ،ہمارے وزیراعظم نے جرمنی اور جاپان کو ہمسایہ ملک قرار دیدیا۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن پارلیمان میں تقریر کررہی ہے اور حکومت باہر جلسے کررہی ہے ،حکومت کا کام ہے عوام کیلئے کام کرے ۔

بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل پورے پاکستان کے مسائل ہیں ،جو ایشو اختر مینگل صاحب نے اٹھایا وہ بہت اہم ہے ۔انہوںنے کہاکہ جو جواب شیریں مزاری صاحبہ نے دیا وہ جواب ایک وزیر کا نہیں بنتا۔ انہوںنے کہاکہ جو قرضے لئے گئے ہیں تفصیلات اگر سینیٹ اور نیشنل اسمبلی میں پیش نہ ہوئیں تو عوام اسے نہیں مانیں گے ۔