آمدن سے زائد اثاثہ جات ،رمضان شوگز ملز اور صاف پانی کیس میں حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 8مئی تک توسیع

بہت سی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائی گئیں ، اگر گرفتار کرنے کی وجوہات معلوم نہیں ہونگی تو بحث کیا کرینگے‘وکیل حمزہ شہباز اگر منی لانڈرنگ کا کیس کہتے ہیں تو پھر نیب گرفتار ہی نہیں کر سکتا، اس کیس میں گرفتاری کیلئے مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے‘سلمان بٹ شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کیخلاف شکایت آئی ،فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے بھی مشکوک ٹرانزکشن کی نشاندہی کی ،فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ خفیہ ہے جو فراہم نہیں کر سکتے‘نیب پراسیکیوٹر کیا اس رپورٹ کے مندرجات کو کیس فائل کا حصہ بنایا جائے گا یا نہیں‘عدالتی استفسار /تفتیش کے بعد پتہ چلے گا کہ حقائق کیا ہیں‘وکیل نیب بتایا جائے کون کون سی دستاویزات نیب فراہم کر سکتی ہے،عدالت کا دستاویزت کی فراہمی کیلئے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت لیکر پیش کرنے کا حکم

جمعرات اپریل 16:29

آمدن سے زائد اثاثہ جات ،رمضان شوگز ملز اور صاف پانی کیس میں حمزہ شہباز ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ،رمضان شوگز ملز اور صاف پانی کیس میں قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی و مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 8مئی تک توسیع کر دی ، عدالت نے دستاویزت کی فراہمی کے لیے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت لیکر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ کون کون سی دستاویزات نیب فراہم کر سکتی ہے۔

ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز تینوں کیسز میں عبوری ضمانتیں ختم ہونے پر ایک مرتبہ پھر سخت سکیورٹی میں عدالت پیش ہوئے ۔سابق گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حفیظ اللہ چوہدری سمیت دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔

(جاری ہے)

رمضان شوگر ملز ، صاف پانی اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حمزہ شہباز کی طرف سے الگ الگ وکیل امجد پرویز ،اعظم نزیر تارڑ اور سلمان بٹ پیش ہوئے ۔حمزہ شہباز ی درخواستوں پر سماعت سے قبل عدالت نے کمرہ عدالت سے غیر متعلقہ افراد کو نکالے کا حکم دیا ۔عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل امجدپرویز کو غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے پہلے بھی کہا کہ کوئی غیر ضروری بندہ کمرہ عدالت میں نہیں ہونا چاہیے ۔

جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ آپ نے وقت مقرر کر رکھا ہے تب تک کمرہ عدالت خالی ہوجاے گا۔عدالت نے کہا کہ کیس سے غیر متعلقہ افراد دوران سماعت کمرہ عدالت میں موجود نہیں ہونے چاہئیں ۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اکرم بٹ نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں بہت سی دستاویزات نہیں لگائی گئیں،دستاویزات مکمل ہونے تک کیس آگے نہیں بڑھ سکتا،نیب نے گرفتار کرنے کی وجوہات بھی ریکارڈ پر نہیں رکھیں ، اگر گرفتار کرنے کی وجوہات نہیں معلوم ہونگی تو بحث کیا کرینگے۔

جس پر نیب وکیل جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ حمزہ شہباز سے بیرون ممالک سے آنے والی رقوم اور آف شور کمپنیوں کے متعلق تفتیش کرنی ہے، معلوم کرنا ہے کہ باہر سے پیسہ کس نے بھیجا اور کن ذرائع سے یہ پیسہ حاصل کیا گیا ،عدالت نے حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے سے دس روز پہلے آگاہ کرنے کا حکم دیا تھا ، جو دستاویزات حمزہ شہباز نے دیں اس کے متعلق بیان ریکارڈ کروانا تھا جو ابھی تک نہیں کیا ۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثے کیس میں آج تک گرفتاری کی وجوہات نہیں بتائی گئیں ،حمزہ شہباز کے خلاف جو انکوائری کی منظوری دی گئی اس کی بھی دستاویزات فراہم کی جائیں ،ہمیں دستاویزات نہیں دی جارہیں اگر ہم عدالت میں چیلنج کرنا چاہیں تو کیسے کریں گے۔ وکیل نے مزید کہا کہ اگر منی لانڈرنگ کا کیس کہتے ہیں تو پھر نیب اس میں گرفتار ہی نہیں کر سکتا، نیب منی لانڈرنگ میں صرف تفتیش کر سکتا ہے گرفتاری نہیں ،منی لانڈرنگ کا کیس سیشن کورٹ میں چلنا ہے دونوں قوانین کو اکٹھا نہیں کر سکتے،اگر منی لانڈرنگ میں کسی کو گرفتار.کرنا ہو تو مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے،گرفتاری کی وجوہات اور شکایات کیا ہیں یہ ہمیں نہیں بتایا جا رہا ،جو مواد کسی ملزم کے خلاف استعمال کیا جارہا ہو وہ اس سے نہیں چھپایا جاسکتا ۔

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف شکایت آئی ،فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے بھی مشکوک ٹرانزکشن کی نشاندہی کی ،فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ خفیہ ہے جو فراہم نہیں کر سکتے۔عدالت نے کہا کہ کیا اس رپورٹ کے مندرجات کو کیس فائل کا حصہ بنایا جائے گا یا نہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیش کے بعد پتہ چلے گا کہ حقائق کیا ہیں۔

عدالتی بنچ نے استفسار کیا کہ صاف بتایا جائے کہ کی اس رپورٹ کو بطور شہادت استعمال کرنا ہے یا نہیں ۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر ہی تفتیش کی جائے گی ۔جب تحقیقات کی رپورٹ مکمل ہوجائے گی تو متعلقہ دستاویزات کو حصہ بنا سکتے ہیں،ابھی معاملہ تفتیش کے مراحل میں ہے اور اس لیے یہ دستاویزات کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ فاضل بنچ نے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 8 مئی تک توسیع کر دی ۔

عدالت نے دستاویزت کی فراہمی کے لیے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت لیکر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ کون کون سی دستاویزات نیب فراہم کر سکتی ہے ۔حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر لاہور ہائیکورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور احاطہ عدالت میں جمع ہونے والے لیگی کارکنوں کو بھی باہر نکال دیا گیا ۔حمزہ شہباز کی آمد کے موقع پر ہائیکورٹ کے داخلی دروازے کے باہر موجود لیگی کارکنوں نے بھرپور نعرے بازی کی ۔

کارکنوں نے حمزہ شہباز کی گاڑی کوگھیر کے شیر، شیر کے نعروں سے پر تپاک استقبال کیا ۔ حمزہ کی آمد کے موقع پر کارکنوں، پولیس اور حمزہ شہباز کے ذاتی گارڈ کے مابین شدید دھکم پیل بھی ہوئی ۔حمزہ مسجد گیٹ سے داخل ہوتے ہی اپنی گاڑی سے اتر کر کمرہ عدالت کی جانب پیدل روانہ ہوئے۔سماعت کے بعد حمزہ شہباز لاہور ہائیکورٹ سے واپس روانہ ہو ئے تو کارکنوں کی جانب سے ایک بار پھر شدید نعرے بازی کی گئی ۔

یاد رہے کہ چند روز قبل نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے دو مرتبہ ان کی رہائش گاہ پر چھاپے مارے تاہم گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔عدالت نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی 17اپریل تک عبوری ضمانتیں منظور کر کے نیب کو گرفتار ی سے روک دیا تھا۔