وزیر اعلی سندھ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس،کئی اہم فیصلے کیے گئے

سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات و قانون کی پریس بریفنگ

جمعرات اپریل 18:35

وزیر اعلی سندھ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس،کئی اہم فیصلے کیے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) وزیر اعلی سندھ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس،کئی اہم فیصلے کیے گئے کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں بجٹ اسٹریٹجی 20-2019 سے 22-2021 ، کمپیوٹر آپریٹر/ڈیٹا انٹری آپریٹرز/ڈیٹا پروسیسنگ آفیسر کی اسامی کے گریڈ 7/8 سے گریڈ 11/12 اور گریڈ 16 میں اپ گریڈیشن، آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کا چارٹر، فنانشل پاور کا ضلع سطح پر منتقلی، تھرکول فیلڈ بلاک 2 کے متاثرین کو معاوضہ دینا، اینگرو کو تھر میں زمین کی الاٹمنٹ، سندھ رولز آف بزنس، مفتی تقی عثمانی پر حملے میں شہید ہونے پولیس اہلکار اور لاڑکانہ میںجان بحق مزدوروں کے لواحقین کو معاوضے کی منظوری، سندھ ایکسپلوسوو ایکٹ 2019 کی منظوری، محکمہ ایجوکیشن کے ملازمین کو ٹائم اسکیل دینا، شگر کین کی قیمت کا تعین اور مشیر، معاون خصوصی تقرری ایکٹ میں ترمیم شامل تھی اجلاس میں چیف سیکریٹری، تمام صوبائی وزراء ، مشیر و معاون خصوصی و متعلقہ سیکریٹریز شریک ہوئے ۔

(جاری ہے)

مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن ہی تھا کہ آج تھر کول پاور پروجیکٹ فعال ہوچکا ہے انشاء اللہ چار جون کو یہ تمام بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی جبکہ اسلام کوٹ تحصیل میں تھر کے کوئلے سے آپریٹ ہونے والے مزید پانچ پاور پلانٹ قائم کیئے جائیں گے انہوں نے بتایا کہ تھر میں گورانو ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں 757متاثرہ خاندانوں کفالت کیلئے فی خاندان ایک لاکھ روپے سالانہ معاوضہ دیا جائے گا اجلاس میں معاوضے کی پہلی قسط کی ادائیگی کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سندھ کے مالی امور سے متعلق سیر حاصل بحث کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2018 اور 2019 میں سندھ حکومت کو این ایف سی اور او زی ٹی کی مد میں 669 ارب روپے منتقل ہونے تھے لیکن411ارب روپے ملے ہیں جس کے باعث 269 ارب روپے کا شارٹ فال ہے جس کی وجہ سے سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں کھڑی ہورہی ہیں۔ مشیر اطلاعات نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی نااہل حکومت نے عوام پر غربت ، بھوک اور افلاس مسلط کردیا ہے اس وقت پاکستان 1.6 کھرب روپے کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے مگر وزیراعظم عوام سے ووٹ کے مینڈیٹ کا احترام کرنے کے بجائے طعنہ زنی سے بات کرتے ہیں اور اپنی تقریروں میں غیر اخلاقی، غیر جمہوری اور غیر آئینی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے لاڑکانہ میں ہونے والے افسوسناک واقعہ میں باجوڑ کے شہید ہونے والے مزدوروں کیلئے فی خاندان دس لاکھ روپے کی منظوری دی ہے جو ان کے خاندان کی کفالت کیلئے ہوں گے مزید برآں مفتی تقی عثمانی صاحب پر حملہ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کیلئے دو کروڑ روپے مالی معاونت کے ساتھ ایک سرکاری نوکری اور ایک پلاٹ دینے کی منظوری بھی دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے گنے کا نرخ 182 روپے فی من مقررکیا ہے اس کے علاوہ سندھ ایکسپلوسیو ایکٹ 2019 میں ترمیم کی منظوری دے دی جسے جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ انشورنس کمپنی کے تحت سندھ کی حدود میں کسی بھی حادثہ میں زخمی ہونے والے شخص کو معاوضہ کی صورت میں ایک لاکھ روپے دیا جائے گا اس کے علاوہ آرٹیکل 130 کی شق کے دو کے تحت وزیر اعلیٰ سندھ اپنے مشیروں کا تقرر خود کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ جیل میں قید افراد کی کسی ایمرجنسی کی صورت میں پیرول پر رہائی کا اختیار سیکریٹری داخلہ کو دیا گیا ہے جس سے قیدی کو بروقت علاج یا قریبی عزیز کی تدفین کے وقت پیرول پر رہائی آسان ہوگی ، حکومت سندھ نے رمضان میں مہنگائی کو روکنے کے لیئے وزیر زراعت کی نگرانی میں کمیٹی قائم کی جا چکی ہے مرتضی وہاب نے مزید بتایا کہ صحت کا شعبہ سندھ حکومت کی ترجیح ہے ہم میٹرو نہیں بلکہ عوام کی بہتری پر کام کررہے ہیں اجلاس میںکہا گیا کہ ارشاد رانجھانی کا واقعہ افسوس ناک تھا اور ہماراموقف واضح ہے وزیر اعلی نے اسمبلی میں اپنا موقف بیان کیا ہے جبکہ مالی مدد اور بچوں کی کفالت پر بھی فیصلے کریں گے انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ میں ردوبدل نہیں بلکہ محکمے تبدل کیے گئے ہیں تاہم ردوبدل وزیر اعلی کا استحقاق ہے بیرسٹر مرتضی وہاب نے مزید بتایا کہ 41ہزار اسامیوں پر شفاف بھرتی کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے،مشیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں سری لنکا میں ہونے والے اندوہناک واقعہ کی مذمت کی گئی۔