بینک اسلامی نے 31 مارچ 2019ء کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی اعداد و شمار کی منظوری دے دی

جمعرات اپریل 18:39

بینک اسلامی نے 31 مارچ 2019ء کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی اعداد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) بینک اسلامی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31 مارچ 2019ء کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی اعداد و شمار کی منظوری دی ہے۔ بورڈ کا اجلاس 24 اپریل 2019ء کو کراچی میں منعقد ہوا۔ بینک نے سال 2019ء کے آغاز پر کارکردگی کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران بینک کی کارکردگی سے متاثر کن نتائج حاصل ہوئے۔

رواں سال کے دوران بینک نے آپریٹنگ نفع کی مد میں 866.973 ملین روپے حاصل کئے جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 9 گنا زیادہ ہے۔ دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بینک نے اس عرصہ کے دوران 408.237 ملین روپے کا بہترین قبل از ٹیکس منافع کمایا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں چھ گنا زیادہ ہے جبکہ بینک کو سال 2019ء کی سہ ماہی کے دوران 251.303 ملین روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل ہوا۔

(جاری ہے)

اقتصادی سست روی کے باوجود بینک اپنے ڈپازٹس بیس میں 3.6 فیصد کا اضافہ کرنے کے قابل ہوا اور اس کے حجم کو 191 ارب روپے تک بڑھایا جبکہ بینک کے اثاثہ جات میں بھی 5.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بینک کے بڑے مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق بینک 31 دسمبر 2018ء کے مقابلہ میں مارچ 2019ء کے اختتام پر انفیکشن ریشو کو 11.88 فیصد سے 10.03 فیصد تک کم کرنے میں کامیاب رہا۔

اسی طرح کوریج کی شرح کو 31 دسمبر 2018ء کے 70.97 فیصد کے مقابلہ میں 88.3 فیصد تک بڑھایا گیا جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اسلامک بینکنگ بلیٹن دسمبر 2018ء میں ظاہر کی گئی صنعتی شعبہ کی اوسط شرح 83.2 فیصد سے زیادہ ہے۔ بینک کے گروتھ پلان پر عمل درآمد کے لئے بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رواں سال کے دوران ایک ارب روپے کے حصص جاری کرنے کے اصولی فیصلہ سے بھی اتفاق کیا ہے۔ مزید براں بورڈ نے بینک کے Tier-1 Capital Additional کے تحت سرمایہ کی حد کو 2 ارب روپے تک بڑھانے کی بھی منظوری دی ہے (جس میں 500 ملین روپے کا Green-shoe آپشن بھی شامل ہی)۔ اس سے بینک شرح نمو کو بڑھانے کے مختلف اقدامات کر سکے گا جس سے اسلامی بینکاری کے مجموعی شعبہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاونت حاصل ہوگی۔