سندھ کابینہ اجلاس: تھر کول اور گھرانو ڈیم کے متاثرین کے لیے معاوضے کی منظوری

مفتی تقی عثمانی پر حملے میں شہید پولیس کانسٹیبل فاروق کے اہلخانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کی امداد، فاروق کے اہلخانہ کو 2 ملازمتیں اور پلاٹ دینے کی بھی منظوری

جمعرات اپریل 18:55

سندھ کابینہ اجلاس: تھر کول اور گھرانو ڈیم کے متاثرین کے لیے معاوضے کی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں تھر کول فیلڈ اور گھرانو ڈیم کے متاثرین کو معاوضہ دینے کی منظوری دے دی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ کابینہ اجلاس میں بجٹ کی حکمت عملی پر بحث کی گئی۔

وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے 9 ماہ میں 269 ارب روپے کم آئے، وفاق سے 669 ارب ملنے تھے لیکن 411 ارب ہی مل پائے۔ وفاق سے کم فنڈ ملتے رہے تو یہ فنڈ تنخواہوں میں ہی پورے ہو جائیں گے۔ اس حساب سے ترقیاتی کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔اجلاس میں پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کے چارٹر پر بھی غور کیا گیا۔ مفتی تقی عثمانی پر حملے میں شہید افراد کے لیے امداد کی منظوری، سندھ ایکسپلوزو ایکٹ 2019 کی منظوری اور گنے کی قیمت کا تعین بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

(جاری ہے)

مفتی تقی عثمانی پر حملے میں شہید پولیس کانسٹیبل فاروق کے اہلخانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کی امداد، فاروق کے اہلخانہ کو 2 ملازمتیں اور پلاٹ دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ شہید اہلکار کے 7 بچوں میں سے 3 نابینا ہیں جن کے علاج کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں عارضی پیرول پر قیدیوں کی رہائی کے اختیارات سیکریٹری داخلہ کے سپرد کردیے گئے، پیرول پر قیدیوں کی رہائی کا اختیار پہلے حکومت کے پاس تھا۔

بی کلاس کی سہولت کے اختیارات بھی ہوم سیکریٹری کو دے دیے گئے۔صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صحرائی علاقے تھر کول فیلڈ اور گھرانو ڈیم کے متاثرین کو معاوضہ دینے کی بھی منظوری دے دی گئی۔ مذکورہ علاقوں کے متاثرین کی تعداد 575 ہے اور ہر متاثرہ خاندان کو ایک لاکھ سالانہ معاوضہ دیا جائے گا۔خیال رہے کہ یہ وہ متاثرین ہیں جو تھر میں کوئلے کی کان کے قریب رہائش پذیر تھے اور کان کی کھدائی کے لیے انہیں دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

اسی طرح گھرانو ڈیم وہ مقام ہے جہاں کان سے نکلنے والے پانی کو ذخیرہ کیا جا رہا ہے، یہاں سے بھی متعدد خاندانوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔اجلاس میں لاڑکانہ میں قتل کیے گئے 3 مزدوروں کے لواحقین کے لیے بھی امداد منظور کرلی گئی، ہر شہید ہونے والے مزدور کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔اجلاس میں سندھ ایکسپلوزو ایکٹ 2019 منظور کر کے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا، وزیر اعلی نے سیکریٹری داخلہ کو قوانین بنانے کی ہدایت کردی۔

کابینہ اجلاس میں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے گریڈ ایک سے گریڈ 4 کے ٹائم اسکیل پر بحث ہوئی۔ تمام محکموں کے نچلے گریڈ ملازمین کے ترقیوں کے کیس کابینہ کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔کابینہ نے کاشت کاروں سے گنا 182 روپے فی من خریدنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ سندھ میں کرشنگ سیزن 30 نومبر سے شروع ہوگا۔اجلاس میں سندھ ایڈوائزر ایکٹ 2003 میں ترمیم کی منظوری دی گئی جس کے تحت وزیر اعلی آرٹیکل 130 کی کلاز 2 کے تحت خود 5 مشیر تعینات کر سکتا ہے۔ کابینہ نے ترمیم کی منظوری دے کر ترمیمی بل سندھ اسمبلی کو بھیج دیا۔اجلاس میں اقلیتوں اور ان کی آخری رسومات کے لیے زمین کی نشاندہی کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی جس میں وزیر ریونیو، وزیر بلدیات، وزیر ایکسائز اور چیف سیکریٹری کو شامل کیا گیا ہے۔