شام کے شہر عفرین پر قبضے کے لیے ترکی نے کوششیں تیز کردیں

عفرین کو الگ کرنے کے لیے ترکی کی جانب سے تین میٹر بلند دیوارتعمیرکی جارہی ہے،شامی آبزرویٹری

جمعرات اپریل 20:22

شام کے شہر عفرین پر قبضے کے لیے ترکی نے کوششیں تیز کردیں
انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) ترکی نے شام کے شمال مغرب میں سرحد کے نزدیک واقع شہر عفرین کو عملی طور پر اپنی اراضی میں ضم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ترکی کی فوج کئی روز سے اعلانیہ طور پر عفرین شہر کے بعض دیہات کے گرد ایک دیوار تعمیر کر رہی ہے بالخصوص ان دیہات کے جو ترکی کی فوج اور اس کے حمایت یافتہ شامی گروپوں کی بشار کی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز کے ساتھ ٹکراؤ کے علاقے میں واقع ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے کہاکہ مذکورہ دیوار کی اونچائی تین میٹر ہے۔ اس کا مقصد عفرین کو شامی اراضی سے کاٹ دینا اور اس دیورار کو سیکورٹی بیلٹ کے طور پر استعمال کرنا ہے۔انقرہ اس دیوار کے کچھ حصے پہلے ہی ان دیہات میں بنا چکا ہے جو عفرین شہر کے مرکز سے 10 کلو میٹر سے زیادہ کی دوری پر نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

ترکی اور شام کے بعض ذرائع ابلاغ نے اس دیوار کو ترکی کے عسکری اڈے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تاہم المرصد گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے اس مفروضے کی تردید کر دی۔

سال 2018 کے آغاز سے انقرہ نے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف عسکری آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں عفرین کی مقامی آبادی جبری بے دخلی کے بعد کوچ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ان میں بعض لوگوں نے ماسکو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عفرین میں ترکی کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے اس موقف کو روسی چیک پوائنٹس کے نزدیک ترکی کی دیوار کی تعمیر سے جوڑا ہے جب کہ ماسکو کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ عنوان :